ان میں سے زیادہ تبدیلیاں تر سکھ گروپوں کی جانب سے قابل اعتراض پائے جانے والے مناظر سے متعلق ہیں۔
جمعرات کو سی بی ایف سی نے ممبئی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ اس کی نظرثانی کمیٹی نے فلم کی ریلیز سے پہلے کچھ کٹوتی کی تجویز دی تھی۔
سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے زی انٹرٹینمنٹ کے شریک پروڈیوسر کی درخواست کا جواب دیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ یہ ادارہ فلم کا ’غیر قانونی اور من مانے‘ طریقے سے اجازت نامہ روک رہا ہے۔
اس فلم کی ہدایت کار اور پروڈیوسر انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمان کنگنا رناوت ہیں، جو اس فلم میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کا کردار نبھا رہی ہیں۔
جب زی انٹرٹینمنٹ کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ہدایات لینے کے لیے وقت مانگا کہ کٹوتی کی جانی چاہیے تو جسٹس بی پی کولابا والا اور جسٹس فردوس پی پونی والا پر مشتمل بینچ نے معاملے کی سماعت پیر 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سی بی ایف سی کی جانب سے فلم پروڈیوسروں کو لکھے گئے خط کے مطابق نظرثانی کمیٹی نے فلم کے ٹریلر میں سکھ برادری کی تصویر کشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکھ گروپوں سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
