ملکی حالات کے تناظر میں غریب ادمی کی حالت زار
سدرہ ارم
مختلف مالک کا مشکل دور سے گزرنا تو سننے میں اتا تھا مگر پوری دنیا اضطراب اور تذبذب کا شکار ہو جائے گی یہ بات وہم م وگما ن سے دور کی لگتی تھی کہیں برسوں سے دنیا دہشت گردی اور جنگ کے بھنور میں پھنستی نظر ارہی ہے پھر وقت نے کروٹ لی تو اس بھنور سے نکل کر وباء کے دنگل کا حصہ بنا ڈالا کسی بھی ملک کے سیاسی اقتصادی اور معاشی دور پر نظر ڈالیں تو صورتحال کچھ یوں بنتی ہے کہ یا تو مذاہب و عقائد کا انتشار ملک میں افرا تفری کا باعث ہے یا پھر سیاسی گہما گہمی نے تشدد کا عالم برپا کیا جو حالات و واقعات کسی ایک ملک کے مشکل دور کی وجہ بنے اج دنیا بھی کچھ ایسی نہج پہ ہے کوئی ملک پریشانی میں مبتلا ہوتا نظر اتا ہے تو ایک ہی باز گشت سنائی دیتی تھی کہ بائے بیرونی سازشوں نے ملک کے استحکام کو ضرب لگائی ہے مگر اب جب دنیا ہی اس سمت کی طرف گامزن ہے تو دنیا میں انارکی کی وجہ کون سے سیارے کی بیرونی سازش ہو سکتی ہے کوئی ایسا ملک یا ایسی قوم نہیں جو سیاسی معاشی مذہبی افراتفری سے متاثر نہیں سیاسی دنگل اور معاشی دلدل نے نہ صرف مشرقی دنیا بلکہ مغربی دنیا میں سیاست اور معیشت کو اثر انداز کر دیا ہے سیاسی طاقتیں عوام سمیت عسکری طاقتوں کہ ساتھ کھلواڑ میں مصروف عمل نظر اتی ہیں اور دوسری جانب غریب عوام یہ موضوع کہیں ایک خواب بن کر رہ گیا کہ ترقی پذیر ممالک میں عوام کی فلاح و بہبود ملکی معیشت کو کیسے بہتر سے بہترین بنایا جائے اور جگ ہسائی سے بچا جا سکے جب ملک اور غریب کی بات اتی ہے تو ہمارے بڑوں کے تیور کچھ بدلے بدلے نظر اتے ہیں ہم دنیا کو یہ بات بتانے میں مصروف عمل ہیں کہ ہمارے حکمران بدعنوان ہیں جبکہ کرپشن زر زمین سے ہی نہیں بلکہ وطن کے وقار کو پامال کرنا اور گمراہی کی جانب خود کو اور دوسروں کو دھکیلنا بھی ہے موجودہ صورتحال کی ذمہ داری انہی لوگوں کی ہے جنہوں نے ملک کو تحفظ فراہم کر رکھا ہے یہ ایک عام فہم فرد کا خیال ہے جو ملک و ملت کی تقدیر کا ستارہ کہلاتا ہے تمام تر توپوں کے رخ ہماری حفاظت پر مامور ادارے کی جانب موڑ دیے جبکہ ایسا نہیں دنیا بھر کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت انہی کی ہے موجودہ حکومت کا امتحان لینا ضروری ہے اگر ہم اتنے سیانے اور سمجھدار ہیں کہ موجودہ حکمران ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے میں نااہل ہیں تو یہ فیصلہ عوام پہ چھوڑ دینا چاہیے اور نئے انتخابات کا انتظار کریں تاکہ عوام پر یہ بات روز روشن کی طرح ہو جائے کہ گزشتہ حکومت نے ملک کو بہتر چلایا اور موجودہ حکومت کی نااہلی نے ملک کو خسارے میں دھکیل دیا سڑکوں پر نکل کر دھرنے دے کر ملک میں دنگل کی سی صورتحال پیدا کر کے ملکی معشیت اور استحکام کو فقط نعروں کی بھینٹ چڑھا کر خود کو ایک مہذب شہری باوقار سیاست دان اور ذمہ دار پاکستانی کہلوانے کے مزاج نہیں ماہرین معاشیات ناقدین سے لے کر تجزیہ نگار ہر طرف سے یہی اواز سنائی دیتی ہے کہ پاکستان کی میں معیشت برے حالات کی جانب بڑھ رہی ہے کبھی گرے لسٹ کا ڈر تو کبھی مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان موجودہ صورتحال اضطراب نفسا نفسی کی منظر کشی بہتر انداز میں کرتے نظر اتے ہیں دنیا کے ہر ملک میں اپنی ریاست کو سنبھالنے اور اس کی بہتری کی کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ پاکستان سیاسی میڈ بھیڑ میں اپنے اصل مقاصد کو بھول گیا موجودہ صورتحال میں پارلیمانی پارٹیوں کا کردار کہیں دکھائی نہیں دیتا یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے حالانکہ عوام کے ووٹ سے ہی وہ عنان حکومت تک پہنچے ہیں ان کو اس ساری صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ریاست کو استحکام مل سکے ازاد کشمیر ٹورازم ہب ہے اس کی سیاحت متاثر ہو رہی ہے اس سے معیشت متاثر ہو رہی ہے اور غریب ادمی اس سے متاثر ہو رہا ہے بطور کشمیری کبھی یاسین ملک کے لیے اواز اٹھائی قران سوزی کے خلاف اواز بلندگی کوئی دھرنا دیا توڑ پھوڑ کی تمر کے ڈنڈے استعمال کیے اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لیے کتنی بار سڑکیں بلاک کیں A چوک سےD چوک تک لانگ مارچ اور وہ بھی جس میں چند افراد شامل ہوئے ہوں یہ احتجاج کیا گیا ان مقاصد کے لیے جو ہمارے لیے اہم ترین ہیں کبھی کسی غریب کے دستے بازو بننے کی کوشش کی ملک کو سرکس بنا رکھا ہے دھرنے دھرنے اور صرف دھرنے یہ کہاں کی انسانیت ہےحکومت اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ کوئی اس موجودہ صورتحال سے خوش دکھائی نہیں دیتا اپنے اپنے خول سے باہر نکل کر ایک عام اور غریب ادمی کے ساتھ کچھ وقت گزار کر دیکھیں یہ سب ڈرامے بھول جائیں گے روٹی کپڑا اور مکان کی سہولت میسر ہو لگزری گاڑیاں ہوں تو پیدل چلنے ریڑی چلانے والے کا درد محسوس نہیں ہوتا خود کے چولہے جلتے ہوں تو دوسروں کی بجھتی اگ نظر نہیں اتی ایک غریب انسان جو دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہ دھرنے سے کیا حاصل کرے گا اس کا فقر و فاقہ ختم ہو جائے گا اے عوام ہوش کے ناخن لیں تو یہ سب جگہ پر ا جائیں گے لیکن افسوس اندھوں کی نگری میں کانا راجہ یہ وقت ہوش کے ناخن لینے کا ہے نہ کہ اپس میں ہتھا پائی اور منہ ماری کا سوئی ہوئی قوم ڈنڈے سوٹے دھرنے چھوڑ کر اپنی حالت زار پہ رحم کریں ان سب ہتھکنڈوں سے ملکی معیشیت مزید تباہی کی طرف جا رہی ہے نہ کہ کوئی حلاور حاصل وصول نظر اتا ہے مزید غربت کی چکی میں پسنے سے بہتر ہے جو ہیں وہی رہیں وقت سے بڑا منصف کوئی نہیں۔