انسانی سمگلنگ ایک المیہ ،کس سے منصفی چاہیں ؟ تحریر : ظفر مغل


انسانی سمگلنگ ایک المیہ ،کس سے منصفی چاہیں ؟ 
تحریر : ظفر مغل 
 وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ کے متعلق جاری تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ٹھوس سفارشات پیش کرنے،سہولت کاری میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان کے خلاف سخت کارروائی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لئے متعلقہ اداروں کو آپس کے رابطے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ پاکستان کے لئے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ وزیر اعظم نےبرہمی کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ 2023ء کے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں انتہائی سست روی سے کام لیا گیا، ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئےتھی ۔انہوں نے انسانی سمگلروں کی سہولت کاری میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان کو خلاف کے سخت کارروائی اور انسانی سمگلنگ کے متعلق جاری تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ٹھوس سفارشات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کو یونان کشتی حادثے اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہو ئے بتایا گیا کہ یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پانچ پاکستانیوں کی شناخت کر لی گئی ہے، دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ایتھنز میں موجود پاکستانی سفارت خانہ کشتی حادثے کے حوالے سے یونانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے، بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوجرانوالا، گجرات، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کے اضلاع سے سب سے زیادہ افراد انسانی سمگلروں کا شکار ہوتے ہیں،انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی مزید بہتر بنائی جا رہی ہے۔ 
انسانی سمگلنگ امریکہ سمیت دیگریورپی ممالک اورپاکستان کابھی ایک بڑااہم مسئلہ ہے۔انسانی سمگلنگ سے مرادایسی سرگرمیاں ہیں جس میں لوگوں کے جسمانی اوراخلاقی استحصال کیلئے غیرقانونی طورپرانسانی غیرقانونی تجارت انسانی سمگلنگ کی صورت میں شامل ہو۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیامیں انسانی سمگلنگ ہرسال8لاکھ سے زیادہ افرادکو متاثرکرتی ہے۔اقوام متحدہ نے 1949ءسے انسانی سمگلنگ کے جبراورجسم فروشی کے استحصال کیلئے معاہدوں اورکنونشنوں پردستخط کررکھے ہیں اوراس مقصد کیلئے30جولائی کو اقوام متحدہ کے تحت دنیابھرمیں انسانی سمگلنگ کاعالمی دن منایاجاتاہے۔پاکستان سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقوام متحدہ کے ماہرین نے 10سفارشات بھی پیش کررکھی ہیں اورمتعلقہ محکمہ کی استعدادکار بڑھانے کیلئے مہاجرین کی سمگلنگ سے متعلق پاکستان کوبین الاقوامی معاہدے پردستخط کیلئے زوردیاگیاہے۔مارچ 2023میں شائع شدہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2021ء- 22ءمیں ایران کے ذریعے 16,678افراد غیرقانونی طورپرترکی پہنچے۔ پاکستان میں 1994میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے PMSAایکٹ1994 (پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ایکٹ1994ء) میں قائم کیاگیا۔ پاکستان میں یہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے واحدبحری قانون نافذکرنیوالی ایجنسی ہے جسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ انسانی سمگلروں کاتعاقب کرے اورانہیں کیفرکردارتک پہنچائے لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی کہیئے یاوفاقی وصوبائی اور اآزاد کشمیر کی حکومتوں کی عدم دلچسپی یانااہلی یاپھرسستی اورکرپشن ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے لوگوں کوباعزت روزگارکی فراہمی کے تقاضے آئین کے تحت پورے کرنے میں کماحقہ پوری نہیں اتر رہیں۔جس باعث ملک بھرمیں بیروزگاری کے بڑھتے ہوئے عفریت اورمہنگائی کے طوفان نے غریب اورمتوسط طبقے کوغیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے اوراپنے گھریلواورخاندانی حالات کوبہتربنانے، اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم دینے اوران کی زندگیاں بہتربنانے کے سہانے خوابوں کی تکمیل کیلئے سمندرپارجانے کی طرف راغب ہوناپڑتاہے اور یہی وجہ ہے کہ دن بدن بڑھتی مہنگائی اور روزگارکے مواقع میسرنہ آنے کیوجہ سے پاکستان اورآزادکشمیرکے نوجوانوں میں دن بدن غیرقانونی طورپرکام کرنیوالے ایجنٹوں کے ذریعے اپنی زندگی کاجمع شدہ مال ومتاع وقرض کی صورت میں حاصل کردہ رقوم یاپھراپنی ماؤں بہنوں، بیویوں کے زیورات بیچ کراچھے دنوں کی لگن میں بیرون ملک جانے کے سہانے خواب اپنی آنکھوں میں سجالیتے ہیں لیکن انہیں کیاپتہ کہ وہ ہزاروں جتن کرکے رقم اکٹھی کرتے ہوئے اپنے لئے موت خریدکراپنے خاندانوں کیلئے بھی زندگی بھرکا روگ خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اپنے اسی طرح کے خواب سجائے پاکستان اورآزادکشمیرکے سینکڑوں نوجوان ماہ جون 2023میں اس غیرقانونی دھندے میں ملوث ایجنٹوں کے ذریعے 22-25لاکھ روپے فی کس دیکر یونان جاتے ہوئے لیبیاکے علاقے توبرک (میسنییا)کے مقام پر3 منزلہ کشتی میں حادثہ کاشکار ہوکرابتدائی طورپر82 افراد جاں بحق گئے تھے جن میں سے 104کو ریسکیوکرلیا گیا اورحادثہ کاشکارہونیوالی کشتی میں 700سے زائدافراد سوارتھے جن میں 350پاکستانی بھی شامل تھے۔ اس کشتی میں زیادہ سے زیادہ 400 افراد کے سفرکرنے کی گنجائش تھی۔سانحہ یونان کشتی میں 12پاکستانیوں کوزندہ بچالیاگیا تھا۔ اس وقت تک غیرقانونی طورپربذریعہ کشتی بیرون ملک جانیوالے لوگوں کایہ سب سے بڑاسانحہ تھا،
 آزادکشمیرکے ضلع کوٹلی کے مختلف دیہاتوں کے 32 افراد بھی سمندرکی لہروں کی نذرہونیوالوں میں شامل تھے۔ جبکہ پاکستان کی تاریخ کے اس بڑے سانحہ کے بعد حکومت پاکستان اورحکومت آزادکشمیرنے سوگ کااعلان کرتے ہوئے پرچم سرنگوں کیااورقانون نافذکرنیوالے متعلقہ ادارے حرکت میں آئے اور اس طرح مجموعی طورپردرجن بھرسے زائدغیرقانونی طورپرکام کرنیوالے ایجنٹوں کوپاکستان کے ضلع گجرات اورآزادکشمیر ضلع کوٹلی سے حراست میں لیاگیا تھا۔ابتدائی تحقیقات سے متعلق معلومات پاکستان کو فراہم کر دی تھیں۔رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے الزام میں 29 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ، یونان کے ایک ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے تناظر میں کم از کم 11 گرفتاریاں کی گیئں جن میں سے زیادہ تر مصری شہری تھے۔
دوسری جانب یونان کشتی حادثہ،لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے والے اہم سرغنہ کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار انسانی اسمگلر کا تعلق وزیر آباد سے ہے،ایجنٹ نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری کو یورپ بھجوانے کیلئے پیسے وصول کیے۔ایجنٹ وقاص احمد نے یونان بھجوانے کیلئے 23 لاکھ روپے بٹورے،ایجنٹ کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے ایف آئی اے لنک آفس یونان نے تفصیلات شیئر کیں،
وزیر اعظم نے حادثے کی تحقیقات کے لئے چار رکنی اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی تھی ، وزیر اعظم نے یونان میں 14 جون کو ہونے والے کشتی کے حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کو کمیٹی کاچیرمین مقرر کیا جبکہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹیری (افریقہ) جاوید احمد عمرانی کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا اسی طرح آزاد جموں و کشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیر احمد اور وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری (ایف آئی اے) فیصل نصیر بھی کمیٹی میں شامل تھے ۔کمیٹی کویونان میں کشتی ڈوبنے کے تمام حقائق جمع کرنے اور انسانی سمگلنگ کے پہلو کی تحقیق اور ذمہ داروں کا تعین کر نے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ،کمیٹی نے ایک ہفتے میں رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرنا تھی ،مگر شومی قسمت آج تک ملزمان کوکیفرکردار تک پہنچانے اور متاثرین کے ورثاکی آ شک سوئی کر نے کی کوئی تفصیلات سامنے نہ آسکیں۔
یقیناًانسانی سمگلنگ کایہ حالیہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کابدترین سانحہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی اورآزادکشمیرکے شہری سوہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے لقمہ اجل بن کرگہرے پانیوں کی نذرہوگئے جبکہ ان کے پسماندگان ساری زندگی ان کے غم میں بے بسی اورحکومتی بے حسی کی تصویربنے ہوئے ہیں جبکہ سانحہ کاشکارہونیوالے رہتی دنیاتک عوام کیلئے ایک سبق آموز داستان چھوڑگئے۔ پاکستان کاایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ ہوتاہے توچندروز خوب واویلاکیاجاتاہے اوربعدازاں سب بھول جاتے ہیں بلکہ قانونی موشگافیوں کے نتیجہ میں ملزمان باعزت بری ہوکرپھرسے وہی غیرقانونی دھندے میں ملوث ہوکرانسانی جانوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔پاکستان میں مختلف شعبہ جات کے مافیاز کوکنٹرول کرنے کیلئے قوانین توموجود ہیں لیکن ایوان اقتدارمیں بیٹھے وائٹ کالرکرائمز میں ملوث عناصر اپنے ذاتی اورسیاسی مفادات کیلئے ان مافیازکے ہمیشہ سے پشت پناہ رہتے ہیں یہی صورتحال آزادکشمیرمیں بھی ہے بلکہ پاکستان کی صورتحال سے بڑھ کریہاں کئی ایسے قوانین نافذنہیں ہیں جس سے ملزمان کوحالات کے قابوکرنے اورلوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے وقتی طورپرملزمان کوگرفتارتوکرلیاجاتاہے مگرقوانین کے عدم نفاذ کے باعث ملزمان چندہی ماہ میں عدالتوں سے بری ہوکے پھر وہی دھندہ شروع کر دیتے ہیں اس کی بڑی مثال میرپورواسلام گڑھ میں گردہ پیوندکاری اسکینڈل ہے جس کے ملزمان سرعام قانون نافذکرنیوالے اداروں کاآج بھی منہ چڑھا رہے ہیں اسی طرح دیگرکئی معاملات میں بھی یہی صورتحال پیش آئی ہے لیکن ارباب اختیارنے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔آزادکشمیرکے عبوری آئین 1974ءکے آرٹیکل 19اور آرٹیکل 31کے سب آرٹیکل 3کے مطابق ایف آئی اے کادائرہ کارآزادکشمیر تک بڑھانے کااختیاروزیراعظم پاکستان کوبحیثیت چیئرمین آزادجموں وکشمیرکونسل حاصل ہے لیکن آزادحکومت نے بھی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اس قانون کواڈاپٹ نہیں کیااورنہ ہی وفاقی حکومت کے کسی سربراہ نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے آزادکشمیرکے عوام کوبنیادی انسانی حقوق کے منافی ہونیوالے اقدامات سے بچانے کیلئے آج تک کوئی پیشرفت کی ہے یہی وجہ ہے کہ آزادکشمیردونوں حکومتوں کی عدم دلچسپی، بے حسی یاغفلت کیوجہ سے آزادکشمیرکرپٹ مافیازکی محفوظ پناہ گاہ(جنت) میں تبدیل ہوچکاہے۔قرین قیاس ہے کہ آزادکشمیرکی تاریخ کے اس بڑے سانحہ جسے یونان کشتی حادثہ کہاجارہاہے کہ ملزمان بھی آزادکشمیرمیں اس حوالے سے قوانین کااطلاق نہ ہونے کیوجہ سے بری ہوکردوبارہ اپنی سرگرمیوں کیلئے ناجائزطورپرآزادہونگے اورسینکڑوں جانوں کے ضیاع کاباعث بننے والوں اوران کے سہولت کاروں سے کون سوال کرے گاکہ”میں کس کے ہاتھ پہ اپنالہوتلاش کروں“ جبکہ حادثے کاشکارہونیوالوں کے ورثاء بھی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ”کس سے فریادکریں کس سے منصفی چاہیں“۔

 

جدید تر اس سے پرانی