بندہ اچھا ہے، کیونکہ باتیں اچھی کر لیتاہے خواجہ سعد رفیق!!!!!!!!! تحریر ندیم مندیال


بندہ اچھا ہے، کیونکہ باتیں اچھی کر لیتاہے
خواجہ سعد رفیق!!!!!!!!! 
جسکا اپنا تعارف جاتی امراء جیسی سیاسی درگاہوں کی مجاوری ہے، جس نے ایک خاندان کی عقیدت میں عمر کے تین حصے گزار دیے
جسکے لیڈر اسکی سیاسی عمر سے بھی چھوٹے ہیں
جسکا مستقبل نواز شریف کیبعد شہباز شریف، مریم، حمزہ اور جنید کی چرنیں ہیں! 
ایسے بہروپیے جب قوم کو جمہوریت پہ لیکچر دیں تو ایک آنکھ نہیں بھاتے
طاہر القادری صاحب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آل شریف اور انکے مجاوروں کو جب یہ محسوس ہو گا کہ وہ ووٹ کے ذریعے اقتدار میں نہیں رہ سکتے تو وہ آپ سے ووٹ کا حق ہی چھین لیں گے
آپ پچھلے تین سالوں میں موجودہ رجیم کے ووٹ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات دیکھیں تو یہ پیشگوئی بالکل سچی محسوس ہو گی
سب سے پہلے انہیں یہ لگا کہ اوورسیز ووٹرز انہیں پسند نہیں کرتا اور انہیں ووٹ نہیں ملیگا تو انہوں نے اوورسیز کا حق انتخاب مل جل کر اسمبلیوں سے ختم کروا دیا
پھر انہیں لگا کہ الیکشن کے نتیجے میں یہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پائیں گے تو انہوں نے مُلک کے اصل مالکوں کے ساتھ ملکر آئین کو روندتے ہوئے اقتدار میں آنے کےلیے خفیہ معاہدے شروع کر دیے، جمہوریت کی باتیں کرنیوالے جمہور کے غضب سے اسقدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے مالکوں کیساتھ شرائط بھی رکھ دیں کہ ایک پارٹی سے اسکا انتخابی نشان تک چھین لیا جائے
پہلے درجے کی تقریباً ساری قیادت جیلوں میں ڈلوا دی گئی، اغواء کروا دی گئی یا ملک سے باہر بھجوا دی گئی، جو تیسرے درجے کے لوگ بچ گئے انکے کاغذات نامزدگی تک چھین لیے گئے اور انہیں الیکشن میں کمپین تک نہ کرنے دی گئی، ہمارے اپنے حلقے پی پی ٣٤ اور این اے ٧١ کے امیدوار پورے الیکشن میں روپوش رہے اور ایک دن بھی کمپین نہ کر پائے
"یوں سُنجیا ہو گیاں گلیاں وچ یار نواز پھرا "

باوجود اسکے عوام نے ٨ فروری کو اپنا وٹ نکالا اور انہیں تاریخ کی عبرتناک شکست دی، عابد رضا جیسے بڑے بڑے بُرج الٹ گئے، تو انہوں نے پورا الیکشن ہی چوری کر لیا

فارم ٤٧ کیساتھ کھڑی، اصل باشاہوں کی رکھیل حکومت کے ٹاؤٹوں کا جمہوریت پہ درس دینا ایسے ہی ہے جیسے حریم شاہ "حیاء" پہ طویل لیکچر دے دے

انہیں پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا بچھونا بنکر حکومت کرنے میں کوئی عار نہیں، البتہ آزادکشمیر میں فوج کی مداخلت انہیں ستائی جاتی ہے

خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، قمر زمان کائرہ اور ان جیسے تمام کردار دراصل سیاست کی وہ کھانگڑ بھینسیں ہیں جو اب دودھ تو نہیں دے سکتیں مگر ڈیرے کے سانڈ کو راضی رکھتی ہیں، اسلیے چوہدری کے "کلے" پہ موجود ہیں!

ان سے روزانہ آپکو ایسی باتیں سننےکو ملینگی کہ یہ ملک بس ہم چلا سکتےہیں، بس ہم ٹھیک کر سکتےہیں، یہ تعمیروترقی بس ہمارےہی دم سےہے، بس ہم اور ہم!

یاد رکھیے!
جیسے دنیا کا ہر نظام وقت کیساتھ ساتھ اپڈیٹ ہوتاہے ایسے ہی دنیا میں پرانے سیاستدانوں کی جگہ نئے لوگوں نے لی اور انقلاب برپا کیے مگر
ایک جعلی پیر، ایک ڈھونگی بابا، ایک خانقاہیت زدہ مذہبی رہنما اور سیاستدان۔ ۔ ۔ یہ سب لوگ آپ کو ہمیشہ یہی کہتے ملیں گے کہ تم نہیں جان سکتے، چاہو بھی تو نہیں جان سکتے کہ ملک کیسے چلانا ہے، بس ہم جانتے ہیں، اس لیے ہم سے خریدتے جاؤ، اور "قیمت" ادا کرتے جاؤ۔

یہ خانقاہیں اور انکے مجاور آپکو یہی کہینگے کہ بس ہمارا احترام، ہمارا جھنڈہ، ہمارا نعرہ، سب قبول کرتے جاؤ، اور "رہنمائی" لیتے جاؤ، جو ہم کہیں وہی ٹھیک ہے، خود مت سوچو، تم پہنچ نہیں پاؤ گے، بس نعرےلگاتےجاؤ!

ایسے بہروپیے جہاں بھی نمودار ہوں اور اپنا مال بیچنے لگیں تو اپنا پرنا بُکل میں دیکر دبے پاؤں باہر نکل آئیے اور بگٹٹ ہو جائیے، یہ خانقاہیں آپکو دولے شاہ کا چوہا تو بنا سکتی ہے، ایک آزاد اور خودمختار انسان نہیں۔

ندیم مندیال

 

جدید تر اس سے پرانی