(حکومت آزاد کشمیر اور ٹیوٹا کو میرا کھلا چیلنج ہے).... ندیم مندیال
سوشل میڈیا پہ آواز اٹھانے کیبعد گزشتہ روز ٹیوٹا آزاد کشمیر نے پریس ریلیز کی ہے جسمیں روایتی مؤقف اپناتے ہوئے کہا گیا ہیکہ حالیہ تقرریاں عین میرٹ پہ ہوئی ہیں ۔
اول الذکر میں قطعاً نہیں چاہتا کہ ہماری جن بہنوں کی تقرریاں ہوئی ہیں انکی کسی قسم کی دل آزاری کیجائے!
لیکن حکومت اور ٹیوٹا نے چونکہ پریس ریلیز کی ہے تو اسکا جواب بہت ضروری ہے۔
میں اس پلیٹ فارم کے توسط سے انتہائی اختصار کیساتھ کھلا چیلنج کر رہا ہوں کہ اگر حکومت، اداروں یا عام عوام میں سے کسی کا یہ مؤقف ہیکہ B-14 سکیل کی یہ تقرریاں میرٹ پہ ہوئی ہیں تو آپ وقت اور جگہ کا انتخاب کرکے بشمول میری فیملی متعلقہ امیدواران کو میڈیا کی موجودگی میں بلائیے اور سبکے کوائف چیک کیجئے !
اگر آپ ماسٹر ڈگری اور گریجویشن میں فرق نہیں سمجھتے تو اسمیں میرا قصور نہیں !
راقم کی فیملی ماسٹر ڈگری ہے اور اس نے ٹیکنیکل شعبہ میں پنجاب بورڈ سے 3 سالہ Dress making designer (DDM) کیا ہوا ہے۔(جیسے ڈاکٹر بننے کے لیے ایم بی بی ایس کرنا ضروری ہوتا ہے، ایسے ہی ٹیکنیکل شعبہ جوائن کرنے کے لیے ڈی ڈی ایم ضروری ہوتاہے)
اسکے علاوہ فوجی فاؤنڈیشن پاکستان سے 2 سالہ کورس کیا ہوا ہے، اسی کورس کیبعد فوجی فاؤنڈیشن میں ہی میرٹ پہ 2015 سے لیکر 2020 تک اس نے بطور سینئر انسٹرکٹر کی پوسٹ پہ خدمات سر انجام دی ہیں ۔
2020 میں عمران خان حکومت نے تمام فوجی اداروں کو ختم کرنے کا بل پاس کیا اور پاکستان کے تمام فوجی فاؤنڈیشن اداروں کو ختم کر دیا گیا، جسکے باعث یہ جاب جاتی رہی ۔
اسکے بعد 2021 میں وفاقی ادارہ (NAVTTC) نیشنل ووکیشنل ٹریننگ کمیشن نے پاکستان ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ٹوٹل 16 اضلاع میں پاٹلٹ پراجیکٹس کا آغاز کیا، جسمیں میری اہلیہ کی میرٹ پہ تقرری ہوئی ۔ حالنکہ مدمقابل برگیڈیئرز،کرنلز اور بیوروکریٹس کی بھی بیٹیاں اور بہنیں تھیں، مگر چونکہ یہ تقرریاں میرٹ پہ ہوئیں، اسلیے بھمبر سے واحد تقرری ہماری ہوئی۔
جبکہ دوسری جانب معمولی کورسز کیساتھ گریجویٹ خواتین کو ترجیح دی گئی ہے۔
یعنی کیا اک شخص ایم بی بی ایس کیے بغیر ڈاکٹر بن سکتا ہے؟
آپ اک حکیم اور ایم ںی بی ایس میں فرق نہیں سمجھتے ؟
اسکے بعد اگلا مرحلہ تحریری امتحان اور پریکٹیکلز کا ہے
آپ آن کمیرہ میڈیا کے سامنے تینوں امیدواران کے پیپیرز نکالیے اور پریکٹیکل ورک نکالیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا !
میں آن ائر کہتا ہوں کہ اگر تعلیمی اعتبار سے ، یعنی ڈگری ، ڈپلوماز، کورسز یا تجربہ کے حوالہ سے مدمقابل امیدواران بہتر ثابت ہوں یا حالیہ امتحانات کے حوالہ سے انکے پیپرز اور پریکٹیکل بہتر ہوں تو میں اسی پلیٹ فارم سے اعلانیہ معذرت کرونگا !
مانتا ہوں کہ کئی کئی سالوں سے ایڈھاک خواتین کو مستقل کرنا آپکی مجںوری تھی، مگر آپ نے باقیوں کا وقت اور پیسہ کیوں برباد کیا ؟
کیوں اشتہارات دیے؟
کیوں تحریری امتحانات لیے؟
کیوں پریکٹیکل لیے؟
کیوں انٹرویوز لیے؟
آپ یہ سب کیے بغیر بھی تو ایڈھاک خواتین کو مستقل کر سکتے تھے ۔
آپ نے اپنی کارستانیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے اشتہار ، امتحان اور انٹرویو کے نام پر "حلالہ" نکالا ہے ۔
آپ بددیانتی کے مرتکب ٹھہرے ہیں
آپ نے منہ پہ کالک مَلی ہے اور یہ کالک چودھویں کا چاند بنکر ہمیشہ آپکے چہروں پہ چمکتی رہیگی !
ندیم مندیال
