مظفرآباد( ہارون آزاد )آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے۔

 


مظفرآباد( ہارون آزاد )آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے۔ تاہم اس کے باوجود جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، اس خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ جنگ بلاشبہ تباہی لاتی ہے، لیکن جو قومیں اپنی سالمیت اور خودمختاری کو مقدم نہیں رکھتیں، ان کے لیے امن اور عزت کی زندگی ممکن نہیں ہوتی۔ پاکستان ایک بہادر، غیرت مند اور مظبوط قوم ہے جو اپنی سرزمین، نظریے اور وقار کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار دنوں کی تباہی سے بھارت ہمارے حوصلوں کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم اور افواج ہر وقت جنگ کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ ہم نے ہر محاذ پر دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہمیں دبایا یا جھکایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی، لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی، اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بھارت کی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی عملی و اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے۔ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کی حدود میں براہموس میزائل داغے، بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کیا، بھارت نے 7 تا 10 مئی تک کئی حملے کیے، بھارتی حملوں میں خواتین، بچوں سمیت معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بھارتی حملوں میں عبادت گاہوں سمیت انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔پاکستان کے موثر اور بروقت ردعمل نے بھارت کی جنگی حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ امریکہ اور دیگر دوست ممالک سے جنگ بندی کے لیے مدد طلب کرے۔انہوں نے اسے پاکستان کی بڑی سفارتی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ چاہے میدانِ جنگ ہو یا سفارت کاری کا میدان، پاکستان نے دونوں محاذوں پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ا س بے مثال فتح نے دونوں جانب کے کشمیری عوام میں ایک نئی امید کی لہرپیداکی ہے

جدید تر اس سے پرانی