اس موقع پر حکومت کی جانب سے تحصیل بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا جبکہ یادگارِ شہداء سیری بنڈالہ پر مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام، سیاسی و سماجی شخصیات، شہداء کے لواحقین اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے آغاز پر ایس ایس پی بھمبر چوہدری محمد امین، اسسٹنٹ کمشنر سماہنی سید کلیم عباس، چیئرمین ضلع کونسل ڈاکٹر محمد یوسف، سابق ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال خان، سابق ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھمبر راجہ غلام ربانی، پاک آرمی کے مقامی یونٹ کے افسران میجر عشرت ،سابق صدر کشمیر پریس کلب سماہنی راجہ ساجد حسین سمیت دیگر حکام نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھولوں کے گلدستے پیش کیے، قبروں پر پھول نچھاور کیے اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
بعد ازاں ضلع کونسل کے زیر اہتمام مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت چیئرمین ضلع کونسل ڈاکٹر محمد یوسف نے کی۔ تقریب میں شہداء کے ورثاء چوہدری محمد ذوالفقار، ماسٹر غلام مصطفیٰ، باؤ نثار احمد، ڈاکٹر شاہین، ڈاکٹر فضل کریم سمیت دیگر اہل خانہ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ تقریب میں سابق ایڈوائزر صدر ریاست عنصر صارم، سابق امیدوار اسمبلی غلام قادر طفیل، وزیر حکومت چوہدری علی شان سونی کے فرزند ممبر ضلع کونسل عدیل علی شان، ایس ایچ او تھانہ پولیس سماہنی چوکی نوید عاطف، بانی صدر پریس کلب سماہنی سید مظہر حسین جعفری، سینئر قانون دان و صدر بار بھمبر گلزار احمد ایڈووکیٹ، سابق ڈسٹرکٹ کونسلر چوہدری محمد نسیم، ممبر ضلع کونسل چوہدری اصغر علی، چیئرمین یونین کونسل منانہ سرسالہ چوہدری عبدالرحمن سدھو، صدر پریس کلب سماہنی اسحاق چوہدری، حاجی راجہ منیر اللہ، اے ڈی انکم سپورٹ پروگرام وقار احمد، میجر (ر) چوہدری طارق محمود، امیر جماعت اسلامی علی فخر الدین، تحصیلدار سماہنی عابد حسین، محکمہ مال لے اہلکاران، ضلع کونسل کے ملازمین، محکمہ برقیات کے اہلکاران، بلدیاتی نمائندگان
میڈیا نمائندگان بدرالسلام جعفری،جاوید اقبال، سمیت دیگر سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات اور عوام علاقہ نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے توثیق احمد نے کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شاہد محمود چوہدری نے احسن انداز میں سرانجام دیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کے ورثاء ماسٹر غلام مصطفیٰ نے کہا کہ ان کے خاندان اور گاؤں نے جو عظیم قربانی دی ہے اس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ سانحہ سیری بنڈالہ کے شہداء کی یاد میں سرکاری سطح پر برسی منانے اور عام تعطیل کے اعلان کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔مقررین جن میں ایس ایس پی بھمبر چوہدری محمد امین، راجہ اظہر اقبال خان، چیئرمین ضلع کونسل ڈاکٹر محمد یوسف، راجہ غلام ربانی، عنصر صارم، سید مظہر حسین جعفری، عدیل علی شان، ڈاکٹر علی فخر الدین، محمد اکرم، گلزار احمد ایڈووکیٹ، چوہدری عبدالرحمن سدھو اور دیگر شامل تھے، نے اپنے خطاب میں کہا کہ سانحہ سیری بنڈالہ تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم اور المناک باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج ظلم و بربریت کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام رہیں گی۔
مقررین نے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 26 اور 27 اپریل 1998 کی درمیانی شب بھارتی بلیک کیٹ کمانڈوز نے سیز فائر لائن عبور کر کے سیری بنڈالہ کی نہتی آبادی پر حملہ کیا، جہاں چوہدری کالا خان اور ماسٹر میاں زبیر کے خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سفاکانہ کارروائی میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت 22 افراد کو بے دردی سے شہید کیا گیا، حتیٰ کہ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی جو انسانیت سوز ظلم کی بدترین مثال ہے شہداء کی لازوال قربانیاں ہم پر قرض ہیں ۔مقررین نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کھلی جارحیت اور جنگی جرائم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں جنہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔اسسٹنٹ کمشنر سماہنی سید کلیم عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیری بنڈالہ کا سانحہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور ہم ہر سال اس یاد کو تازہ رکھتے رہیں گے تاکہ نئی نسل ان قربانیوں سے آگاہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر آزادی کے بیس کیمپ کو مضبوط بنانا ہوگا۔چیئرمین ضلع کونسل ڈاکٹر محمد یوسف نے اس موقع پر شہداء کے قبرستان کی چار دیواری کے لیے تین لاکھ روپے فنڈز دینے کا اعلان کیا جبکہ عدیل علی شان نے وزیر حکومت چوہدری علی شان سونی کی جانب سے اعلان کیا کہ سیری بنڈالہ روڈ کو شہداء کے نام سے منسوب کیا جائے گا، قبرستان تک پختہ سڑک تعمیر کی جائے گی اور واٹر پمپ بھی نصب کیا جائے گا۔
تقریب کے اختتام پر قاری گل شیر نے شہداء سیری بنڈالہ، شہداء کشمیر اور عالم اسلام کے لیے ،شیہداء ایران کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور تحریک آزادی کشمیر کو ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔