اقوام متحدہ سے آسیہ اندرابی اور دیگر کی غیر منصفانہ سزا کا نوٹس لینے کی اپیل

 

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں” ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی“ ( ڈی ایف پی) نے معروف آزادی پسند رہنما آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو بھارتی عدالت کی طرف سے کالے قانون ” یو اے پی اے“ کے تحت لمبی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقبوضہ علاقے میں حق پر مبنی آوازوں کو دبانے کی مذموم بھارتی کوشش قرار دیا ہے۔
 ڈی ایف پی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے 24 مارچ کو آسیہ اندرابی کو عمر قید جب کہ ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 30,سال قید کی سزا سنائی۔ این آئی اے عدالت میںتشدد، ممنوعہ فنڈنگ یا عسکریت پسندی کی کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہی لیکن پھر بھی سزائیں سنائی گئیںجو انصاف کا صریح قتل ہے۔
ڈی ایف پی نے کہا کہ اس قدر کڑی سزا کا واحد مقصد ان آوازوں کو نشانہ بنانا ہے جو خطے میں نئی دہلی کی پالیسیوں کو چیلنج کرتی ہیں۔
خط میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ صورت حال کا فوری نوٹس لے اور آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیریوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کردار اداکرے۔
ڈی ایف پی نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے اور دیرینہ تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں فعال کردار ادا کرے۔

جدید تر اس سے پرانی