برصغیر کی سیاست میں بعض حقائق ایسے ہوتے ہیں جنہیں طاقت، پروپیگنڈے، جبر اور جنگی جنون کے شور میں وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر بھی ایک ایسی ہی حقیقت ہے جسے بھارت نے گزشتہ قریب از آٹھ دہائیوں سے بندوق، دھونس، ظلم، آئینی ہیر پھیر، میڈیا وار اور ریاستی جبر کے ذریعے دفن کرنے کی کوشش کی مگر آج خود اس کے ہاں سے اٹھنے والی آوازیں اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں کہ پاکستان کو دیوار سے لگانے، کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے اور طاقت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔
یہ وہی مؤقف ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت دہائیوں سے پیش کرتی آئی ہے۔ حریت رہنماؤں نے ہمیشہ کہا کہ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور ترقی کا راستہ جنگ، نفرت اور محاذ آرائی سے نہیں بلکہ مذاکرات، مفاہمت اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ کشمیری قیادت نے بھارت کو داخلی سطح پر سبکی سے بچانے اور ایک قابلِ قبول سیاسی راستہ فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نعم البدل کے طور پر سہ فریقی مذاکرات کی تجویز بھی دی۔ یہ تجویز دراصل ایک حقیقت پسندانہ اور لچکدار سفارتی راستہ تھا جس کے ذریعے بھارت کو ایک باعزت سیاسی موقع فراہم کیا گیا کہ وہ ضد، انا اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھے۔
مگر بھارت نے کیا کیا؟
اس نے اس امن پسند مؤقف کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے پوری حریت قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا۔ بزرگ رہنما پابندِ سلاسل کیے گئے، نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں دھکیلا گیا، سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگیں، گھروں کو مسمار کیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور ہر اس آواز کو “دہشت گردی” سے جوڑ دیا گیا جو مذاکرات، حقِ خودارادیت یا سیاسی حل کی بات کرتی تھی۔ کشمیریوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ بھارت صرف وہی بات سنے گا جو دہلی کی مرضی کے مطابق ہو۔
مگر تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج وہی باتیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارت نواز سیاسی نرسری سے وابستہ شخصیات کر رہی ہیں۔ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے رہنما اب کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہی جنوبی ایشیا میں امن کا واحد راستہ ہیں۔ وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلسل محاذ آرائی نے نہ بھارت کو فائدہ دیا اور نہ ہی خطے کو استحکام ملا۔ یہ دراصل حریت مؤقف کی دیرینہ صداقت کا اعتراف ہے۔
بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج مُکند نروانے نے آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہونے چاہییں۔انھوں نے دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان رابطوں (People-to-People Contact) کے قیام پر زور دیتے ہوئے انھیں بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ اس سے باہمی تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔جنرل نروانے نے کہا کہ عام لوگ سیاسی کشیدگی اور حکومتی فیصلوں کے ذمہ دار نہیں ہوتے، اس لیے ثقافتی، سماجی اور حتیٰ کہ کھیلوں کے روابط بھی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے “ٹریک ٹو ڈپلومیسی” اور اسپورٹس ایونٹس کو بھی مفید قرار دیا۔
اس سے پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا حالیہ اعتراف بھی اسی بدلتی ہوئی فضا کا ایک اہم اشارہ ہے۔ ایک ایسے شخص کا یہ کہنا کہ پاکستان کو تنہا کرنے، کشمیر سے اسکو دستبردار کرانے ، فوجی برتری حاصل کرنے اور اور اسی طرح کی دیگر جارحانہ پالیسیوں سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہوا، دراصل بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور ناکامی کا اظہار ہے۔ دولت کا یہ کہنا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بات چیت ہی واحد راستہ ہے، اس حقیقت کی توثیق ہے کہ جنگی جنون، میڈیا ٹرائل اور سیاسی ڈرامے کسی بھی دیرینہ تنازعے کا حل نہیں ہو سکتے۔
یہ اعترافات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب جنگِ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت تایخساز سیاسی، عسکری اور سفارتی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ مودی حکومت نے شاید یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ پاکستان نہ صرف اس کی بڑی فوجی طاقت کو ڈھیر کردے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، پُراعتماد اور طاقتور ریاست کے طور پر بھی ابھرے گا۔ بھارت کا سارا جنگی بیانیہ اس وقت زمین بوس ہوگیا جب اس کے اپنے اتحادیوں اور عالمی طاقتوں نے بھی اس کی پوزیشن کو کمزور پایا۔
اس جنگ کے بعد بھارتی معیشت جس تیزی سے زوال کا شکار ہوئی، وہ خود مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، غیر ملکی سرمایہ کار اربوں ڈالر نکال کر بھاگ گئے، مہنگائی اور تجارتی خسارہ بے قابو ہوگیاجبکہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئر لائنز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بھارتی ہوا بازی کے شعبے کو اربوں ڈالر کے نقصانات اٹھانا پڑے اور متعدد کمپنیوں نے فلائٹ آپریشن محدود یا بند کرنے کی مجبوری کا کھلا اظہار کیا۔
دوسری طرف پاکستان نہ صرف عسکری لحاظ سے مضبوط ہو کر ابھرا بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی غیر معمولی طور پر بلند ہوا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف دنیا بھر میں کیا گیا، جدید جنگی حکمت عملی اور دفاعی مہارت نے عالمی توجہ حاصل کی اور پاکستان کو جنگی طیاروں اور دفاعی سازوسامان کے اربوں ڈالر کے آرڈرز ملنے لگے۔ سفارتی میدان میں بھی پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ، اس نے ایران جنگ میں اس نے دنیا بھر کی امیدوں اور توجہ کے مرکز کا حامل کردار ادا کیا جو دنیا کے برے ممالک نہ کرسکے اور جس پر بھارتی منہ سے جھاگ ہی نکالتے رہے۔ اسکے برعکس بھارت سیاسی ، سفارتی، عسکری غرض کہ تمام شعبوں میں حاشیےپہ چلا گیا۔ وہ کم از کم گزشتہ پچیس برس کی کم ترین عالمی ساکھ پر جا پہنچا۔
مودی سرکار کی سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ وہ عالمی سطح پر اپنی کہانی منوانے میں بری طرح ناکام رہی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا جنگ بندی میں اپنے کرداراور بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا ذکر کیا مگر مودی حکومت نرم سا ردعمل ظاہر کرنے کی جرات بھی نہ کرپائی، ٹرمپ کے بیانات کی کھل کر تردید کرنا تو دور کی بات ٹھہری۔ یہی نہیں، بھارت مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا کہ چین نے پاکستان کی مدد کی، مگر لداخ میں اپنی پسپائی اور چینی دباؤ کے باعث وہ بیجنگ کے خلاف ایک لفظ بولنے کی ہمت بھی نہ کر سکا۔ یہ ایک ایسی سفارتی بے بسی تھی جس نے بھارت کے “علاقائی سپر پاور” ہونے کے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔
امریکہ کی جانب سے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیاجانا اور جنوبی ایشیا میں چین کے مقابلے میں اس کو دئے گئے کردار کے لائق نہ سمجھ کر اپنی پالیسی سے رجوع کرنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھارت کو پہلے جیسی اہمیت دینے پر آمادہ نہیں رہیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کا سارا توازن بگڑ چکا ہے اور مودی سرکار اندرونی سیاسی نعروں سے آگے بڑھنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اب بھارت کے اندر سے امن، مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں سنائی دینے لگی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان آوازوں کی اخلاقی حیثیت اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب ہمیں یاد آتا ہے کہ اسی بھارت نے کھیلوں تک کو نفرت کی سیاست کا شکار بنایا۔ کرکٹ کے میدانوں میں کھلاڑیوں کو ہاتھ ملانے سے روکا گیا، ویزا اور سرحدیں بند کرکے خونی رشتوں میں بندھے کروڑوں لوگوں کوآپس میں ملنے کے بنیادی انسانی حق سے محروم کیا،فنکاروں پر پابندیاں لگائی گئیں، ثقافتی روابط منقطع کیے اور عوامی سطح پر دشمنی کو سیاسی سرمایہ بنایا ۔ ایسے ملک سے امن ومفاہمت کی باتیں یقیناً عجیب محسوس ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے ان آوازوں کا خیر مقدم کرنا ایک بڑی ریاستی بصیرت، تحمل اور بردباری کا مظہر ہے۔ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہاکہ بھارت میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق آوازیں مثبت پیش رفت ہیں۔ ہم ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے مثبت ردعمل کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹریک ٹو یا بیک ڈور رابطوں کا علم نہیں ہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ کشتواڑ اور ایل او سی واقعات کے دو مختلف زاویے ہیں ۔ ایک زاویہ انسانی حقوق جبکہ دوسرا امن و سیکیورٹی کا ہے،ایل او سی پر ہمارے جوان چوکس ہیں۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ اپنی اس مثبت روی سے پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، غلبہ نہیں بلکہ باوقار بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارتکاری اور سیاسی حل کی بات کی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل جنگوں، نفرتوں اور عسکری مہم جوئی میں نہیں بلکہ امن، ترقی اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔
آج اگر بھارت کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ نہ پاکستان کو زیر کرسکتا ہے اور نہ کشمیر سے دستبردار، تو یہ دراصل زمینی حقیقت کی فتح ہے۔ کشمیر کے معاملہ کو نہ فوج کشی سےدبایا جا سکا، نہ جیلوں سے، نہ میڈیا بلیک آؤٹ سے، نہ معاشی پابندیوں سے اور نہ ہی سیاسی انتقام سے۔ کشمیریوں کی جدوجہد زندہ ہے، ان کا مطالبہ زندہ ہے اور ان کی آواز اب بھارت کے اندر سے بھی سنائی دینے لگی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی ترک کرے، طاقت کے غرور سے باہر نکلے اور یہ تسلیم کرے کہ مسئلہ کشمیر کوئی داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک زندہ، متنازعہ اور بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کا حل صرف مذاکرات، انصاف اور کشمیری عوام کی امنگوں کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے حریت قیادت برسوں پہلے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔ آج تاریخ بتارہی ہے کہ بھارت اور اسکی گود میں پلنے والوں نے غلط سمت میں سفر کیا جبکہ پاکستان اور حریت پسند کشمیری حق پر اور درست سمت میں کھڑےہیں۔بھارت کو اب ریاستی سطح پر بھی تاریخ کے اس فتوے کو قبول کرلینا چاہئے کیوں دہائیوں بعد بھی اس کو یہی کرنا پڑے گا۔