ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | یکم اکتوبر 2026 (شام ایڈیشن)

تحریر: Ijaz Chaudhry
بڈگام مقابلہ: بھارت کا دعویٰ، پاکستان نے محمد آصف کو زندہ پیش کر دیا

علامتی تصویر — فوٹو: Abdul Muiz Khan / Unsplash

ڈیلی کشمیر آن لائن کی شام کی رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں اقلیتوں سے متعلق گزشتہ چند گھنٹوں کی اہم خبریں پیش ہیں۔ آج کی سب سے بڑی خبر بڈگام مقابلے سے متعلق بھارتی دعوے اور پاکستان کی جانب سے اس کی تردید ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر

1۔ بڈگام مقابلہ: بھارت کا "لشکر کمانڈر" مارنے کا دعویٰ، پاکستان نے "مقتول" کو زندہ پیش کر دیا

بھارتی فوج کے چنار کور کے مطابق 29 اور 30 ستمبر کی درمیانی رات ضلع بڈگام کے یوسمرگ کے علاقے کوراگ میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی میں ایک عسکریت پسند مارا گیا، جس کی شناخت "محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ" کے طور پر کی گئی اور اسے لشکرِ طیبہ کا کمانڈر قرار دیا گیا (سنڈے گارڈین، یو این آئی)۔ یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو زندہ پیش کیا اور بھارتی دعوے کو "فالس فلیگ" قرار دیا۔ ڈان اور عرب نیوز کے مطابق محمد آصف نے کہا کہ وہ 2000 میں فوج میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی میں گئے، 2023 میں ریٹائر ہوئے اور راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اس رپورٹ کی اشاعت تک بھارت کی جانب سے پاکستانی پریس کانفرنس پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع: ڈان، عرب نیوز، سنڈے گارڈین، ویب انڈیا

2۔ کلگام اور قاضی گنڈ میں ایس آئی اے کے چھاپے

کشمیر آبزرور کے مطابق ریاستی تحقیقاتی ادارے (ایس آئی اے) نے یکم اکتوبر کو جنوبی کشمیر کے کلگام اور قاضی گنڈ میں دو گھروں کی تلاشی لی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انسانی اسمگلنگ اور سائبر فراڈ کے ایک مقدمے میں کی گئی، جس میں مقامی نوجوانوں کو بیرونِ ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر تھائی لینڈ کے راستے میانمار لے جانے کا الزام ہے۔ تلاشی کے دوران موبائل فون، شناختی دستاویزات اور ایک پاسپورٹ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا۔

ذریعہ: کشمیر آبزرور

3۔ سری نگر میں منشیات نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، 8 گرفتار

سری نگر پولیس کے مطابق ایک بین الریاستی منشیات نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دی ہنس انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے تقریباً 85.76 لاکھ روپے نقد اور 1.05 کروڑ روپے مالیت کا سونا برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ذرائع: کشمیر آبزرور، فری پریس کشمیر، دی ہنس انڈیا

4۔ سوشل میڈیا صحافیوں کے لیے نئی میڈیا پالیسی چار ماہ میں

کشمیر آبزرور کے مطابق مقبوضہ علاقے کی وزیرِ اطلاعات سکینہ ایتو نے 30 ستمبر کو اسمبلی کو بتایا کہ چار ماہ میں نئی میڈیا پالیسی تیار کی جائے گی، جس کا مقصد سوشل میڈیا پر کام کرنے والے غیر تسلیم شدہ "صحافیوں" کو ضابطے میں لانا ہے۔ بعض ارکانِ اسمبلی نے ڈیجیٹل دور میں سنسرشپ کے خدشے کی طرف بھی توجہ دلائی۔

ذریعہ: کشمیر آبزرور

بھارت میں اقلیتیں

5۔ اجین کی تاریخی شاہی مسجد کا حصہ منہدم، احتجاج پر آنسو گیس

الجزیرہ کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 2028 کے سمہستھ کمبھ میلے کے لیے سڑک چوڑی کرنے کی خاطر شاہی مسجد کا ایک حصہ گرا دیا گیا۔ 28 اور 29 ستمبر کی رات مسلمانوں نے مسجد کے باہر شب بیداری کی، جس پر پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا اور کم از کم ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ دی پرنٹ کے مطابق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسجد کمیٹی کی درخواست مسترد کر دی تھی؛ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور سات افراد کے خلاف مقدمات درج کیے۔ مسجد کے امام کے مطابق یہ مسجد چھ صدیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ KMS نے بھی یکم اکتوبر کو انہدام جاری رہنے کی خبر دی۔

ذرائع: الجزیرہ، دی پرنٹ، KMS

6۔ مہاراشٹر: تبدیلیٔ مذہب قانون کے خوف سے گرجا گھروں میں "اقرار نامے"

بی بی سی کی 30 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے قریب گرجا گھر عبادت گزاروں سے تحریری اقرار نامے پر دستخط کروا رہے ہیں کہ وہ "اپنی مرضی سے دعا کے لیے آئے ہیں"۔ آؤٹ لک انڈیا کے مطابق مہاراشٹر کا نیا انسدادِ تبدیلیٔ مذہب قانون اگست کے آخر میں نافذ ہوا، جس کے تحت سات سال اور دوبارہ جرم پر دس سال تک قید ہو سکتی ہے، اور مہاراشٹر ایسا قانون بنانے والی 13ویں بھارتی ریاست بن گئی ہے۔

ذرائع: بی بی سی، آؤٹ لک انڈیا

ذرائع