ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | 4 اکتوبر 2026 (شام ایڈیشن)

تحریر: Ijaz Chaudhry

مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس نے گرفتاریوں اور جائیدادوں کی ضبطی پر شدید ردعمل دیا ہے، جبکہ انڈیا اتحاد نے انتخابی فہرستوں اور ریاستی درجے کے مسئلے پر احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف واقعات پر نئی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر

حریت کانفرنس: "کشمیر کو جیتا جاگتا جہنم بنا دیا گیا ہے"

کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری بیان میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے گرفتاریوں، تشدد اور جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے اور محاصرے و تلاشی کی کارروائیوں کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ بیان میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کا مطالبہ کیا گیا۔

ذریعہ: KMS

انڈیا اتحاد کی احتجاجی مہم آج سے شروع، 7 اکتوبر کو جموں مارچ

دی کشمیر امیجز کے مطابق کانگریس، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور نیشنل پینتھرز پارٹی پر مشتمل انڈیا اتحاد نے "جمہوریت بچاؤ" مہم کے تحت 4 سے 8 اکتوبر تک ضلعی سطح پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ 7 اکتوبر کو جموں میں مرکزی مارچ ہوگا۔ اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے، الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ جلد بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام نکالے گئے۔

ذریعہ: The Kashmir Images

فاروق عبداللہ: "لوگوں میں حوصلہ پیدا ہو رہا ہے، تبدیلی آئے گی"

گریٹر کشمیر کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ایک کنکلیو سے خطاب میں ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج پر تنقید کی اور مسلم ووٹروں کو منتخب انداز میں نشانہ بنانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: "آئین ہر شہری کو ووٹ کا حق دیتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی کا نام فہرست سے نکالے۔" ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن خودمختار ہوتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔

ذریعہ: Greater Kashmir

بڈگام: جعلی ایس پی او بھرتی خطوط کیس میں وکیل اور سیاسی کارکن گرفتار

ای ٹی وی بھارت کے مطابق پولیس نے بیروہ (بڈگام) سے تعلق رکھنے والے وکیل جہانگیر احمد ڈار اور 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے فردوس نبی کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ دونوں نے بھارتی وزارت داخلہ کے جعلی مہر و دستخط والے خطوط کے ذریعے بڈگام کے دس نوجوانوں کو اسپیشل پولیس آفیسر (SPO) بھرتی کرانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق متعدد ایف آئی آر درج ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

ذریعہ: ETV Bharat

بھارتی فوج کے شمالی کمانڈر کا جنوبی کشمیر کا دورہ

گریٹر کشمیر کے مطابق بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک سنہا نے اتوار کو جنوبی کشمیر میں راشٹریہ رائفلز کے ایک یونٹ کا دورہ کر کے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور اہلکاروں کو "مسلسل چوکس" رہنے کی ہدایت کی۔ اسی رپورٹ کے مطابق سرینگر ایئرپورٹ پر ہفتے کو ایک فوجی اہلکار کے سامان سے 213 گرام پوست اور 69 گرام بھنگ نما مواد برآمد ہونے پر اسے حراست میں لے کر مقدمہ درج کیا گیا۔

ذریعہ: Greater Kashmir

بھارت میں اقلیتیں

مغربی بنگال: چار ماہ میں عیسائیوں کے خلاف 60 واقعات

انڈیا ٹومارو کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی ادارے انڈیا ہیٹ لیب نے 13 مئی سے 20 ستمبر 2026 تک مغربی بنگال کے 13 اضلاع میں عیسائیوں کے خلاف 60 واقعات ریکارڈ کیے، جن میں دعائیہ اجتماعات، گھروں اور گرجا گھروں پر 52 چھاپے اور تشدد یا توڑ پھوڑ کے 8 واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام واقعات ریاست میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد پیش آئے اور ان میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کا نام لیا گیا ہے۔

ذریعہ: IndiaTomorrow / India Hate Lab

جماعت اسلامی ہند: مساجد کے انہدام اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر تشویش

انڈیا ٹومارو کے مطابق جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں سہارنپور، جے پور، دہلی کے شالیمار باغ، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور اجین میں مساجد اور گرجا گھروں کے انہدام پر تشویش ظاہر کی اور عبادت گاہوں کے قانون 1991 پر عمل کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر پروفیسر سلیم انجینئر نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کو جمہوریت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اسے فوری روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ذریعہ: IndiaTomorrow

ذرائع