ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

پونچھ ایل او سی دھماکے میں آزاد کشمیر کے چار شہری جاں بحق | آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶ (صبح ایڈیشن)

تحریر: Ijaz Chaudhry

ڈیلی کشمیر آن لائن | ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶ — صبح ایڈیشن

پونچھ کے سامنے کنٹرول لائن کے پار ایک مشتبہ دھماکے میں آزاد کشمیر کے چار شہری جاں بحق ہو گئے، جبکہ سرینگر میں این آئی اے نے یو اے پی اے کے تحت ایک اور مکان قرق کر لیا۔ بھارت میں بجنور کے ایک مؤذن کو اذان کی آواز پر جیل بھیج دیا گیا اور دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کا معاملہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔ گزشتہ بارہ گھنٹوں کی اہم خبریں:

مقبوضہ جموں و کشمیر

۱۔ ایل او سی کے پار دھماکہ، آزاد کشمیر کے چار شہری جاں بحق

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، جو کشمیر آبزرور اور گریٹر کشمیر نے شائع کی، پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر کے سامنے آزاد کشمیر کی تحصیل ہجیرہ کے علاقے ستوال ناکی میں ایک مشتبہ آئی ای ڈی دھماکے میں بٹل مندھول گاؤں کے کم از کم چار نوجوان جاں بحق ہو گئے، جو مبینہ طور پر آپس میں رشتہ دار تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ ایل او سی کے قریب پانی کے پائپ بچھا رہے تھے۔ بھارتی حکام نے کہا کہ واقعے کے حالات ابھی واضح نہیں اور سیکٹر میں الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ (ذریعہ: پی ٹی آئی / کشمیر آبزرور، گریٹر کشمیر)

۲۔ مینڈھر میں سرحدی باڑ کے قریب دو بارودی سرنگیں تلف

اسی روز مینڈھر سیکٹر کے علاقے باسونی میں سرحدی باڑ کے قریب دو زنگ آلود بارودی سرنگیں ملیں جنہیں فوج نے کنٹرولڈ دھماکے سے تلف کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں اس علاقے میں تقریباً ایک درجن بارودی سرنگیں ملی ہیں۔ (ذریعہ: پی ٹی آئی / کشمیر آبزرور)

۳۔ سرینگر: این آئی اے نے حضرت بل میں مکان قرق کر لیا

گریٹر کشمیر کے مطابق این آئی اے نے حضرت بل کے گاؤں ڈانی ہامہ میں غلام محمد میر کا مکان یو اے پی اے کی دفعہ ۲۵ کے تحت قرق کر لیا۔ ادارے کا الزام ہے کہ اس مکان میں عسکریت پسندوں کو پناہ دی گئی۔ مقدمہ مارچ ۲۰۲۶ میں زکورہ تھانے میں درج ایف آئی آر سے شروع ہوا تھا۔ (ذریعہ: گریٹر کشمیر)

۴۔ ریاسی: ہائی کورٹ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم کالعدم کر دیا

کشمیر آبزرور کے مطابق جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ریاسی کے ایک مجسٹریٹ کا ۲۰۲۲ کا حکم کالعدم قرار دیا جس میں ان پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت تھی جن پر ایک خاندان کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کا الزام تھا۔ عدالت نے کہا کہ حکم میں وجوہات درج نہیں تھیں اور معاملہ نئے فیصلے کے لیے مجسٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔ (ذریعہ: کشمیر آبزرور)

۵۔ سنیل شرما: ۱۹۸۷ کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، یکساں سول کوڈ نافذ ہوگا

گریٹر کشمیر کے مطابق اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی رہنما سنیل شرما نے الزام لگایا کہ ۱۹۸۷ کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس کا فائدہ نیشنل کانفرنس کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ جموں و کشمیر میں بھی نافذ ہوگا۔ رپورٹ میں نیشنل کانفرنس یا کانگریس کا جواب شامل نہیں۔ (ذریعہ: گریٹر کشمیر)

بھارت میں اقلیتیں

۶۔ بجنور: اذان کی آواز پر مؤذن ۱۴ روزہ عدالتی تحویل میں

دی پرنٹ (پی ٹی آئی) کے مطابق اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نجیب آباد میں پولیس نے مؤذن محمد فیضان کو اذان کے دوران مقررہ حد سے زیادہ آواز کے الزام میں گرفتار کیا اور ایس ڈی ایم عدالت نے انہیں ۱۴ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق مسجد کا لاؤڈ اسپیکر ضبط کیا گیا اور بیٹ کانسٹیبل کو معطل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو سہارنپور کی ایک مسجد کے معاملے میں کہا تھا کہ شور کے قواعد کی پابندی کی صورت میں پانچ وقت کی اذان میں مداخلت نہ کی جائے۔ (ذریعہ: دی پرنٹ، ڈیلی وعدہ)

۷۔ ووٹر فہرستوں پر اپوزیشن کا سپریم کورٹ مارچ، جنتر منتر احتجاجی مقام سے خارج

پی ٹی آئی کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے ۱۲ اکتوبر کو دہلی میں پولیس رکاوٹیں عبور کر کے سپریم کورٹ تک مارچ کیا اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف مشترکہ درخواست دائر کی۔ درخواست گزاروں میں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔ اس سے ایک روز قبل دہلی پولیس نے جنتر منتر کو منظور شدہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے نکال دیا۔ بی جے پی نے مارچ کو ڈرامہ قرار دیا۔ (ذریعہ: پی ٹی آئی / کشمیر آبزرور، اسکرول)

۸۔ دہلی: گرفتار مظاہرین کا تشدد کا الزام، چیف جسٹس نے کہا "یہ میرا معاملہ نہیں"

اسکرول کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں گرفتار مظاہرین، جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، نے الزام لگایا کہ پولیس وینوں میں ان پر تشدد کیا گیا اور فون چھین لیے گئے؛ رپورٹ میں پولیس کا مؤقف شامل نہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت نے مظاہروں کو امن و امان کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا دائرہ نہیں۔ ہفتے کے آخر میں ۴۵ میٹرو اسٹیشن بند رہے اور ہزاروں افراد حراست میں لیے گئے۔ (ذریعہ: اسکرول، گریٹر کشمیر / پی ٹی آئی)

ذرائع

نوٹ: تمام خبریں متعلقہ اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور ہر دعویٰ اس کے ذریعے سے منسوب ہے۔ تصویر ایک اصل گرافک ہے، کسی واقعے کی تصویر نہیں۔