ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۶ (شام ایڈیشن)

تحریر: Ijaz Chaudhry

 


آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۶ (شام ایڈیشن)

مقبوضہ جموں و کشمیر میں عدالتی، سیاسی اور سیکیورٹی پیش رفت کے ساتھ ساتھ بھارت میں اقلیتوں سے متعلق اہم خبروں کا خلاصہ۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں نئی خبریں کم رہیں، اس لیے بعض خبریں ۸ اور ۹ اکتوبر کی ہیں جن کی تاریخ ساتھ درج ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر

  • ہائی کورٹ نے اننت ناگ کے نوجوان کی پی ایس اے نظربندی کالعدم قرار دے دی
    کشمیر آبزرور کے مطابق جسٹس راجیش سیکھری نے ۹ اکتوبر کو گلزار احمد بھٹ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ مبینہ واقعہ جنوری ۲۰۲۴ کا تھا جبکہ نظربندی کی تجویز ایک سال بعد دی گئی اور حکم پر چار ماہ سے زائد عمل نہیں ہوا، اس غیر واضح تاخیر نے ماضی کے الزامات اور نظربندی کی ضرورت کے درمیان تعلق ختم کر دیا۔
    ذریعہ: کشمیر آبزرور

  • بھارت کا یو این ایم او جی آئی پی کو "غیر متعلق" قرار دینے کا مؤقف دہرانا
    کشمیر آبزرور کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ۹ اکتوبر کو کہا کہ اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ (UNMOGIP) شملہ معاہدے کے بعد اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ۶ اکتوبر کو اسلام آباد میں UNMOGIP دفتر کے دورے سے متعلق سوال کے جواب میں دیا گیا۔
    ذریعہ: کشمیر آبزرور

  • بھارتی ناردرن کمانڈ کے سربراہ کا لائن آف کنٹرول پر ۸۸ گھنٹے گولہ باری کا دعویٰ
    کشمیر آبزرور کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے ۹ اکتوبر کو نئی دہلی میں ایک دفاعی سمٹ میں دعویٰ کیا کہ مئی ۲۰۲۵ کی کارروائی کے دوران ایل او سی پر تقریباً ۸۸ گھنٹے توپ خانے سے فائرنگ ہوئی اور قریب ۱۲ ہزار گولے داغے گئے۔ یہ بھارتی فوج کا یکطرفہ دعویٰ ہے جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ذریعہ: کشمیر آبزرور

  • کولگام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی، پانچ نوجوان گرفتار (۸ اکتوبر)
    ریڈیو پاکستان نے کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے ضلع کولگام کے علاقے کھریون چادر میں محاصرے اور تلاشی کے دوران پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا، جبکہ کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ کے جنگلات میں بھی تلاشی کارروائی کی گئی۔
    ذریعہ: ریڈیو پاکستان / KMS

  • جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، ۱۰۰ سینئر افسران کے تبادلے
    کشمیر آبزرور کے مطابق حکومت نے ۹ اکتوبر کو ۱۰۰ سینئر پولیس افسران کے تبادلے کیے، جس سے کئی اہم پولیس یونٹس اور اضلاع کی قیادت تبدیل ہو گئی۔
    ذریعہ: کشمیر آبزرور

بھارت میں اقلیتیں

  • ووٹر لسٹوں سے کروڑوں نام خارج، مسلمانوں کے غیر متناسب طور پر متاثر ہونے کا الزام
    دی نیو عرب کی ۸ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران ۱۳ کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بھارت کے تقریباً ۲۰ کروڑ مسلمان زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ نے ۵ اکتوبر کو حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی۔ الیکشن کمیشن کسی غلطی سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مقصد جعلی اندراجات ختم کرنا ہے۔
    ذرائع: دی نیو عرب، اے ایف پی (اے آر وائی نیوز)

  • آج دہلی میں احتجاج سے قبل سخت پابندیاں، میٹرو اسٹیشن بند اور انٹرنیٹ معطل
    کشمیر آبزرور کے مطابق دہلی پولیس نے جنتر منتر پر "کاکروچ جنتا پارٹی" کے احتجاج کی اجازت نہیں دی اور ہفتے کے روز سے قبل تقریباً ۲۵ ہزار پولیس و نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ کئی میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحریک کا حصہ ہے۔
    ذریعہ: کشمیر آبزرور

  • مغربی بنگال میں چار ماہ میں مسیحیوں کے خلاف ۶۰ واقعات کی رپورٹ
    انڈیا ٹومارو کے مطابق انڈیا ہیٹ لیب نے ۱۳ مئی سے ۲۰ ستمبر ۲۰۲۶ کے دوران مغربی بنگال کے ۱۳ اضلاع میں مسیحیوں کے خلاف کم از کم ۶۰ واقعات ریکارڈ کیے، جن میں دعائیہ اجتماعات پر ۵۲ چھاپے اور ۸ حملے یا توڑ پھوڑ کے واقعات شامل ہیں۔
    ذریعہ: انڈیا ٹومارو / انڈیا ہیٹ لیب

ذرائع

Labels: IIOJK, Minorities, Daily Report