ڈیلی کشمیر آن لائن | بھارت میں اقلیتیں | ۱۲ اکتوبر ۲۰۲۶
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مسیحی برادری نے دعائیہ اجتماعات پر چھاپوں، گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ اور دھمکیوں کی ایک غیر معمولی لہر کی شکایت کی ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر اپوزیشن کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا، جبکہ مسیحی تنظیموں کا ایک فورم بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن سے رجوع کر چکا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے الزامات
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی اور ملینیم پوسٹ کے مطابق ترنمول کانگریس کی رکن راجیہ سبھا ساگریکا گھوش کی قیادت میں تین رکنی ٹیم نے اتوار ۱۱ اکتوبر کو کولکتہ، شمالی ۲۴ پرگنہ اور پشچم مدنی پور کا دورہ کیا۔ ٹیم نے پہلے کلکتہ کے آرچ بشپ سے ملاقات کی، پھر بامن پکور کے ڈیوائن مرسی چرچ اور بالی چک کے کرائسٹ دی کنگ چرچ گئی۔
ٹیم کے الزامات یہ ہیں:
- مونی ناتھ پور گاؤں میں ایک مسیحی شخص کی میت زبردستی قبر سے نکال کر جلا دی گئی۔
- مسیحی خاندانوں کو پانی کی فراہمی اور قبرستان تک رسائی سے محروم کیا گیا۔
- بارا سات کے علاقے شمولتلا میں آکسیلیئم کانونٹ کی راہباؤں کو ان کی اپنی زمین پر تعمیر کے معاملے پر ایک ہجوم نے دھمکایا۔
- مسیحیوں پر ہندو مذہب میں "واپسی" کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
ساگریکا گھوش نے ان "غیر معمولی حملوں" کا ذمہ دار وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو ٹھہرایا۔ یہ الزامات ٹیم کے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق ریاستی حکومت یا پولیس کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
چار ماہ میں ۶۰ واقعات
انڈیا ٹومارو کی رپورٹ کے مطابق انڈیا ہیٹ لیب کے اعداد و شمار میں ۱۳ مئی سے ۲۰ ستمبر ۲۰۲۶ کے دوران مغربی بنگال کے ۱۳ اضلاع میں مسیحیوں کے خلاف کم از کم ۶۰ واقعات درج کیے گئے۔ ان کی تفصیل یہ ہے (بعض واقعات ایک سے زیادہ زمروں میں شامل ہیں):
- دعائیہ اجتماعات، گھروں اور گرجا گھروں پر ۵۲ چھاپے
- جسمانی تشدد، ہجوم کے حملوں یا توڑ پھوڑ کے ۸ واقعات
- نفرت انگیز تقاریر کے ۵ عوامی اجتماعات
- مبینہ تبدیلیٔ مذہب کے خلاف ۳ مظاہرے
جنوبی ۲۴ پرگنہ اور پشچم مدنی پور میں تیرہ تیرہ چھاپے مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق عبادت گزاروں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی اور آدھار کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ مسیحی خواتین پر شاکھا پولا (چوڑیاں) اور سندور اتارنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ کئی واقعات میں ان گروہوں کی شکایت پر پولیس نے حملہ آوروں کے بجائے عبادت گزاروں کو حراست میں لیا۔
انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن سے رجوع
آلٹ نیوز کے مطابق بنگال کے مسیحی فرقوں کے فورم بنگیہ کرسچیا پریشد نے ۵ اکتوبر کو قومی انسانی حقوق کمیشن، مغربی بنگال انسانی حقوق کمیشن اور قومی اقلیتی کمیشن میں شکایات جمع کرائیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ صرف ۱۳ مقدمات میں ایف آئی آر درج ہو سکی، اور وہ بھی "غیر معمولی کوشش اور قانونی مداخلت" کے بعد۔ فورم نے یہ مطالبات کیے:
- اعلیٰ سطحی آزادانہ تحقیقات،
- ہفتہ وار عبادت کے دوران گھریلو گرجا گھروں کے لیے پولیس تحفظ، اور
- جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام لگانے کے لیے استعمال ہونے والی ایڈٹ شدہ ویڈیوز کی تحقیقات۔
ملینیم پوسٹ کے مطابق مسیحی اسکولوں نے بھی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کا وقت مانگنے کا اعلان کیا ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی اسکولوں کو مناسب سیکیورٹی حاصل ہے۔
بھارت میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال
بنگال کے یہ واقعات اس قومی رجحان کا حصہ ہیں جس کی نشاندہی بین الاقوامی ادارے کرتے آئے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی ہے کہ بھارت کو "خاص تشویش والا ملک" قرار دیا جائے، جو تشویش کا سب سے بڑا درجہ ہے۔ کمیشن کی اگست ۲۰۲۶ کی "انڈیا کنٹری بریف" کے اہم نکات یہ ہیں۔
اقلیتوں کے خلاف استعمال ہونے والے قوانین
- تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قوانین: جون ۲۰۲۶ تک بھارت کی ۲۸ میں سے ۱۳ ریاستوں میں نافذ ہیں۔ مہاراشٹر کے ۲۰۲۶ کے قانون میں کم از کم سزا سات سال ہے اور تبدیلیٔ مذہب سے ۶۰ دن پہلے منظوری لینا لازم ہے۔ چھتیس گڑھ کے ۲۰۲۶ کے قانون میں ہندو مذہب اختیار کرنے کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔
- گاؤ کشی کے قوانین: ۲۸ میں سے ۲۰ ریاستوں میں گاؤ کشی جرم ہے۔ کمیشن کے مطابق ان قوانین اور تبدیلیٔ مذہب کے قوانین کی آڑ میں بعض اوقات سینکڑوں افراد پر مشتمل ہجوم کارروائیاں کرتے ہیں۔
- شہریت اور ووٹ: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ملک بھر میں نافذ ہے۔ مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں نوے لاکھ سے زائد نام خارج کیے گئے۔
انہدامی کارروائیاں
- ۲۰۲۶ کی پہلی ششماہی میں درجنوں مذہبی مقامات منہدم کیے گئے، جن میں راجستھان اور اتر پردیش کی کم از کم ۱۴ مساجد اور درگاہیں شامل ہیں۔
سول سوسائٹی اور میڈیا
- ۲۰۱۰ سے اب تک تقریباً ۲۲ ہزار تنظیموں کے غیر ملکی فنڈنگ (ایف سی آر اے) کے لائسنس منسوخ ہو چکے ہیں۔
- رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی آزادیٔ صحافت کی درجہ بندی میں بھارت ۱۸۰ ممالک میں ۱۵۷ویں نمبر پر ہے۔
- ایکسیس ناؤ کے مطابق بھارت مسلسل چھ برس سے انٹرنیٹ بندش میں دنیا میں سرفہرست ہے۔
حراست اور قید
- کمیشن کے مطابق ۲۰۲۵–۲۶ میں حراست کے دوران ۱۷۰ اموات ہوئیں جن پر کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔
- عمر خالد اور شرجیل امام سمیت کئی کارکن اور اسکالر انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت قید ہیں۔
دیگر ریاستوں میں مسیحیوں پر حملے
- اڑیسہ میں ایک پادری کو تشدد کا نشانہ بنا کر گوبر کھانے پر مجبور کیا گیا۔
- چھتیس گڑھ میں تقریباً دو سو افراد کے ہجوم نے ایک مسیحی خاندان کا گھر گرا دیا۔
- منی پور میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں تین بیپٹسٹ پادری مارے گئے۔
بھارتی حکومت ماضی میں یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹوں کو جانبدار قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے لیے اصل خطرہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ سزا سے بچ نکلنے کا مستقل رجحان ہے۔
ذرائع
- PTI / Siasat — AITC team probes attacks on Christians in Bengal (11 Oct 2026)
- Millennium Post — AITC team alleges attacks on Christian institutions
- India Tomorrow — 60 incidents in 4 months (India Hate Lab)
- Alt News — Bengal Christian body moves NHRC, NCM
- Millennium Post — Christian schools seek meeting with RSS chief
- USCIRF — India Country Brief (Aug 2026)
اس خبر کے علامتی گرافکس ڈیلی کشمیر آن لائن کے فیس بک پیج پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ متعلقہ واقعات کی اصل تصاویر نہیں ہیں۔