ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | ۹ اکتوبر ۲۰۲۶ (شام ایڈیشن)

تحریر: Ijaz Chaudhry


 

آئی آئی او جے کے اور بھارتی اقلیتیں — روزانہ رپورٹ | ۹ اکتوبر ۲۰۲۶ (شام ایڈیشن)

بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں گرفتاریوں، حریت قیادت کے مقدمات اور سیاسی گرفتاریوں کی خبریں نمایاں رہیں، جبکہ بھارت میں مسلم اقلیت سے متعلق شہریت اور احتجاج کے معاملات بھی سامنے آئے۔

آج کی تازہ خبریں محدود رہیں، اس لیے اس رپورٹ میں گزشتہ ۲۴ سے ۳۶ گھنٹوں کی مصدقہ خبریں شامل ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر

۱۔ کولگام میں محاصرہ و تلاشی آپریشن، پانچ نوجوان گرفتار

ریڈیو پاکستان نے کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے ضلع کولگام کے علاقے کھریون چادر میں محاصرہ و تلاشی کارروائی کے دوران پانچ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ دی ٹریبیون کے مطابق پولیس نے گرفتار افراد کو "مبینہ ساتھی" قرار دے کر اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور کولگام تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔

ذرائع: ریڈیو پاکستان / KMS، دی ٹریبیون

۲۔ ہندواڑہ کے جنگلات میں تلاشی کارروائی

دی ٹریبیون کے مطابق ہندواڑہ (ضلع کپواڑہ) کے ناگدا نار جنگلاتی علاقے میں پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے تلاشی کارروائی کی اور ایک پرانا "ٹھکانہ" تباہ کرنے اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ ریڈیو پاکستان نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع: دی ٹریبیون، ریڈیو پاکستان

۳۔ حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد

دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق جموں میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ۱۹۹۶ء کے ایک جنازے کے جلوس سے متعلق مقدمے میں شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ وکلائے صفائی نے ان کی عمر، صحت، طویل قید اور مقدمے کے تقریباً تیس سال پرانا ہونے کا حوالہ دیا تھا، تاہم عدالت نے گواہوں پر اثر انداز ہونے کے خدشے کو بنیاد بنایا۔ شبیر شاہ بدستور عدالتی حراست میں ہیں۔

ذریعہ: دی ٹریبیون

۴۔ ریاسی اور جموں میں اپوزیشن رہنما حراست میں

دی ٹریبیون کے مطابق راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ دہلی میں مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج سے قبل کانگریس، نیشنل کانفرنس، سی پی ایم اور پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو ریاسی کے کٹڑہ تھانے میں حراست میں لیا گیا، جبکہ جموں میں پولیس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ کانگریس ترجمان نے اسے "غیر اعلانیہ ایمرجنسی" قرار دیا؛ بعد ازاں رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

ذریعہ: دی ٹریبیون

۵۔ میڈیکل انٹرنز کی ۱۰ اکتوبر سے بھوک ہڑتال کی دھمکی

میڈیکل ڈائیلاگز کے مطابق مقبوضہ علاقے کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ۹ اکتوبر تک وظیفے میں اضافے کا تحریری حکم جاری نہ ہوا تو وہ ۱۰ اکتوبر سے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ انٹرنز کا کہنا ہے کہ موجودہ وظیفہ تقریباً ۴۰۰ روپے یومیہ ہے۔ KMS نے بھی یہ خبر شائع کی ہے۔

ذرائع: میڈیکل ڈائیلاگز، KMS

۶۔ ریاسی میں سی آئی ایس ایف اہلکار گولی لگنے سے ہلاک

کشمیر لائف کے مطابق ضلع ریاسی کے رہائشی سی آئی ایس ایف اہلکار محمد مشتاق ڈیوٹی کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور ضلع اسپتال ریاسی میں دم توڑ گئے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں؛ گولی کیسے لگی، اس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

ذریعہ: کشمیر لائف

بھارت میں اقلیتیں

۷۔ جنتر منتر احتجاج: دہلی پولیس پر مسلمانوں کو روکنے کا الزام

مکتوب میڈیا کی ۹ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مساجد میں مسلمانوں کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا کہا، اور یہ انتباہات بازاروں اور رہائشی علاقوں تک بھی پہنچائے گئے۔ یاد رہے کہ ۲۹ ستمبر کو مساجد کے انہدام کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ اور مسلم تنظیموں کے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا (سیاست ڈیلی)۔

ذرائع: مکتوب میڈیا، سیاست ڈیلی

۸۔ چھتیس گڑھ میں زیرِ حراست چار بنگالی مسلمان رہا

مکتوب میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ میں زیرِ حراست باقی چار بنگالی مسلمانوں کو اس وقت رہا کر دیا گیا جب کلکتہ ہائی کورٹ نے ان کے خلاف شہریت سے متعلق کارروائی پر سوالات اٹھائے۔

ذریعہ: مکتوب میڈیا

۹۔ کولکتہ کی مسلم بستی کا پانی تقریباً چار ماہ سے بند، رکنِ پارلیمنٹ کا اقوامِ متحدہ کو خط

مکتوب میڈیا کے مطابق مغربی بنگال کے رکنِ پارلیمنٹ سمیرالاسلام نے کولکتہ کی ایک مسلم بستی کو تقریباً چار ماہ سے پانی کی فراہمی بند ہونے پر اقوامِ متحدہ کو خط لکھا ہے۔

ذریعہ: مکتوب میڈیا

ذرائع

رپورٹ: ڈیلی کشمیر آن لائن