’بنگلہ دیش دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے‘: شیخ حسینہ کے بیٹے نے یہ موازنہ کیوں کیا اور کیا یہ حقائق پر مبنی ہے؟ BBC Urdu

 

’بنگلہ دیش دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے‘: شیخ حسینہ کے بیٹے نے یہ موازنہ کیوں کیا اور کیا یہ حقائق پر مبنی ہے؟

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف,سحر بلوچ
  • عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’حسینہ واجد نے اپنی مرضی سے پسند کا آرمی چیف لگایا، اسی آرمی چیف نے اپنے لوگوں پر گولی چلانے سے انکار کیا۔ بنگلہ دیشں سے برے حالات پاکستان میں ہیں، ہمارے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری بنگلہ دیش کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ جس طرح بنگلہ دیش میں حسینہ واجد فرار ہوئی، ایسے فرار ہونے کے راستے بند کیے جائیں۔‘

سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف رہنما عمران خان کو بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت کا موقع ملا تو انھوں نے ڈھاکہ میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا موازنہ ان الفاظ میں کیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں کے لیے شروع ہونے والی طلبہ تحریک حکومت مخالف پرتشدد احتجاج میں بدلی تو سوموار کے دن 15 سال برسراقتدار رہنے والی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو استعفی دے کر ملک چھوڑنا پڑا تھا۔ اس سارے قصے میں بنگلہ دیش کی فوج کے آرمی چیف وقار الزمان کا مرکزی کردار رہا جنھوں نے طلبہ کے مطالبے پر نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو مُلک کی عبوری حکومت کا نگران مقرر کیا اور دوسری جانب سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا سمیت کئی سیاسی مخالفین کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔

عمران خان وہ واحد شخصیت نہیں ہیں جو بنگلہ دیش کی صورت حال کا موازنہ پاکستان سے کر رہے ہیں بلکہ ڈھاکہ سے سامنے آنے والے مناظر کے بعد ایک جانب جہاں پاکستان میں گزشتہ سال نو مئی کو پیش آنے والے واقعات کا ذکر ہوتا رہا تو دوسری جانب خود شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے بھی ایسا ہی موازنہ کیا اور کہا کہ ’بنگلہ دیش دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف ماضی میں بھی مشرقی پاکستان کے حالات کی مثال دیتی رہی ہے تاہم موجودہ صورت حال میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بنگلہ دیش کی حالیہ صورت حال سے پاکستان کا موازنہ کرنا درست ہے؟

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم اس سے قبل یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد، جو اپنی والدہ کے مشیر بھی تھے، نے کس تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا موازنہ کیا۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز آور میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سجیب واجد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ’بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل بھی پاکستان کی طرح ہو سکتا ہے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’(آنے والے دنوں میں) بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسند دوبارہ سے اپنی جگہ بنائیں گے، جنھیں ان کی (سابق) حکومت نے بڑی مشکل سے محدود کیا تھا۔ اور اب بنگلہ دیش دوسرا پاکستان بننے جا رہا ہے۔‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس بیان پر کوئی بھی ردعمل دینے سے انکار کیا ہے جبکہ متعدد سابق پاکستانی سفارت کاروں سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک معیوب موازنہ اور تجزیہ ہے۔‘

بنگلہ دیش کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں مِلے جلے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی