بنگلہ دیش اور امریکہ کے مابین معاشی مذاکرات متوقع
روس اور یوکرین کی جنگ نے بنگلہ دیش کی معیشت کو شدید متاثر کیا تھا۔ ملک کی عبوری حکومت کے لیے معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اب امریکہ نے اس شعبے میں ڈھاکہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے بتایا ہے کہ امریکہ اسی ہفتے ڈھاکا کی عبوری حکومت کے ساتھ معاشی امور سے متعلق مذاکرات کرے گا۔ یہ بات انہوں نے فنانشیل ٹائمز کے ساتھ منگل کے روز شائع کیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی۔ دوسری جانب نائب امریکی وزیر خزانہ برینٹ نائمن کے مطابق، ’’امریکہ بہت پر امید ہے کہ ضروری اصلاحات کرتے ہوئے بنگلہ دیش اپنے معاشی مسائل کو حل کر سکتا ہے اور مسلسل ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔‘‘
بنگلہ دیش کی باگ ڈور اس وقت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کے ہاتھوں میں ہے، جنہوں نے گزشتہ ماہ عبوری حکومت کے سربراہ کا حلف اٹھانے کے بعد جلد از جلد ملک میں انتخابات کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ محمد یونس بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے عہدے ہر ملک گیر پر تشدد مظاہروں کے بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہونے کے بعد فائز ہوئے تھے۔
فنانشیل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزات خزانہ کا ایک وفد جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرے گا اور اس وفد میں حکومتی اہلکار اور کاروباری افراد بھی شامل ہوں گے۔ بتایا گیا ہے کہ توقع ہے کہ اس وفد کے ارکان ڈھاکہ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بنگلہ دیش کی مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے اور مالیاتی نظام پر بھی بات چیت کریں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گہا ہے کہ یہ بات چیت اسی اختتام ہفتہ یعنی تیرہ اور چودہ ستمبر کو ڈھاکہ میں منعقد ہوں گی۔
