اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل لبنان سمیت کئی محاذوں پر اپنے دفاع کے لیے مجبور ہوا ہے۔
جمعے کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اس سال ان کا یہاں آنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ان کا ملک جنگ میں ہے اور اپنی بقا کے لیے لڑ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خطاب کے دوران پاکستان سمیت بعض ممالک کی جانب سے واک آؤٹ کیا گیا۔ جب کہ گیلریز میں موجود اسرائیل کے حمایتیوں نے نیتن یاہو کی آمد پر تالیاں بجائیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امن کا خواہاں ہے۔ لیکن ہمیں دشمنوں کا سامنا ہے جو ہماری تباہی چاہتے ہیں اور ہمیں ان "وحشی قاتلوں" سے اپنا دفاع کرنا چاہیے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کا معاہدہ بہت قریب نظر آرہا تھا کہ پھر سات اکتوبر آ گیا۔ "غزہ سے ایران کے حمایت یافتہ ہزاروں حماس کے دہشت گرد ٹرکوں، موٹرسائیکلوں پر اسرائیل میں گھس آئے۔ اور انہوں نے ناقابلِ تصور مظالم کیے۔
