سماہنی۔بھمبر(پریس رہلیز بیورو رپورٹ)حکومت آزاد کشمیر جموں و کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری عملدرآمد یقینی بنائے بصورت دیگر 24 اکتوبر کو حق ملکیت و حق حُکمرانی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا

 



سماہنی۔بھمبر(پریس رہلیز بیورو رپورٹ)حکومت آزاد کشمیر جموں و کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری عملدرآمد یقینی بنائے بصورت دیگر 24 اکتوبر کو حق ملکیت و حق حُکمرانی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا جن میں اہم اعلان کیا جائے گا۔ 15 اکتوبر کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے عوامی حقوق کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے گریز نہیں کریں گے ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر کور کمیٹی و تحصیل صدر انجمن تاجران سماہنی راجہ عابد اسلم۔تاجر عہدیداران و اسیران چوہدری وجاہت حنیف۔چوہدری طاہر اقبال۔چوہدری فاروق اشرف۔ساجد حسین چوہدری۔خوبرو سبحانی۔ملک مظہر۔جاوید شاھین۔و دیگر                                                      نے پر ھجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق اپنے تسلیم شدہ مطالبات کے حوالے سے تفصیلی خط وزیراعظم کو ارسال کردیا ہے جسکی تفصیل درج ذیل ہے ۔

جناب وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیرالسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حکومت آزاد جموں کشمیر نے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں بعد از مذاکرات جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے بذریعہ نوٹیفیکیشن نمبر سروسز/انتظامیہ/جی7 (76) / 2018 مورخہ 4فروری 2024ء نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کے تحت گزشتہ آٹھ ماہ سے سوائے دو مطالبات پر جزوی عملدرآمد کے کسی دیگر مطالبے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔11مئی کے لانگ مارچ کے دوران راولاکوٹ کے مقام پر اور مابعد حکومت پاکستان کے نمائندوں اور آزاد جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری نے بجلی کے جوانراخ مقرر کیے اس کا نوٹیفیکیشن Energy & Water Resources Department نے مورخہ 13مئی 2024ء کو جاری کیا۔دوران مذاکرات یہ بھی طے ہواکہ تحریک کے دوران بجلی بلات کی مد میں بقایا جات نئے ٹیرف کے تحت 24 اقساط میں وصول کیے جائیں گے لیکن اس کے باوجود معاہدہ کی جو خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔الف۔ یہ طے ہو چکا تھا کہ کمرشل بلات 1 سے 300یونٹس تک 10روپے فی یونٹ اور 301 سے زائد یونٹس پر 15 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے لیکن آج بھی  5KVAسے زائد لوڈ والے صارفین (سکولز، گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلز وغیرہ) کو سابقہ ریٹس پر ہی بلات جاری کیے جا رہے ہیں جو معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔

ب۔ یہ طے ہو چکا تھا کہ دوران تحریک گھریلو بجلی بلات کی مد میں بقایاجات کو نئے ٹیرف کے مطابق وصول کیا جائے گا لیکن آج بھی وہ بقایا جات پرانے ریٹس پر وصول کیے جا رہے ہیں جو معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ؛ ۱۔متذکرہ معاملات کو جلد از جلد یکسو کیا جائے۔۲۔بجلی بلات سے جڑے تمام تشنہ معاملات کو حل کرتے ہوئے محکمہ برقیات کے اہلکاران کی جانب سے صارفین کو استعمال سے زیادہ یونٹس چارج کرنے سے روکا جائے۔۳۔ آزاد جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں وولٹیج کم کر کے شہریوں کو بلاوجہ ہراساں کرنے کا عمل بند کروایا جائے۔۴۔آزاد جموں کشمیر کے جن علاقوں میں کم وولٹیج کا مسئلہ درپیش ہے اسے فوری طور پر حل کیا جائے۔۵۔محکمہ برقیات کے ان اہلکاران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو صارفین سے ٹرانسفارمر مینٹیننس کی مد میں رقم وصول کرتے ہیں۔۶۔نئے بجلی میٹرز کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور جو میٹرز درست کام کر رہے ہیں انہیں تبدیل نہ کیا جائے۔۷ محکمہ برقیات کی جانب سے گزشتہ 56 سال سے بلاجواز ٹیکسز وصول کرنے، تیز سپیڈ میٹرز انسٹال کرنے، زائد اور ناجائز بلات کی وصولی، منگلا ڈیم کی جھیل میں غرق ہو چکے گھروں اور کاروباروں کو آج تک بلات جاری کرنے، بجلی کے کھمبوں اور دیگر غیر قانونی مدات میں رقوم کی وصولی اور کرپشن کے دیگر الزامات کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا مل سکے۔11مئی کے لانگ مارچ کے دوران راولاکوٹ کے مقام پر حکومت پاکستان کے نمائندوں اور آزاد جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری نے سرکاری آٹے کے جوانراخ مقرر کیے اس کا نوٹیفیکیشن سیکرٹریٹ خوراک نے مورخہ 13مئی 2024ء کو جاری کیا۔اس نوٹیفیکیشن کی روشنی میں آٹے کے 20کلو بیگ کا نرخ مبلغ 1000 روپے مقرر ہوا جبکہ 40کلو بیگ کا نرخ مبلغ 2000روپے مقرر ہوا۔ تاہم یہ انراخ مقرر کرنے کے بعد زاہد  رقم وصول کی جا رہی ہے اور محکمہ خوراک نے نہ صرف آٹے کی کوالٹی کو compromise کر دیا ہے بلکہ اس کی اکثر علاقوں میں allocation بھی کم کر دی ہے۔اندرایں حالات جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ؛۱۔ آزاد جموں کشمیر بھر میں آٹے کے معیار کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری بنایا جائے اور آبادی کے لحاظ سے اس کی ایلوکیشن پوری کی جائے۔۲۔ محکمہ خوراک میں گندم کی خریداری سے آٹے کی ڈیلرز تک فراہمی کا نظام صاف اور شفاف بنانے کے لیے بائیو میٹرک نظام نافذ کیا جائے۔۳۔ محکمہ خوراک کی جانب سے ڈیلر حضرات کو آٹا سپلائی کرنے کے لیے بنک ووچرسسٹم برقرار رکھا جائے اور جہاں بنک موجود نہ ہوں وہاں آٹے کا فی من 2000روپے نرخ ہی وصول کیا جائے۔ 2000 فی من سے زاہد رقم وصول کرنے والے محکمہ خوراک کے اہلکاران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۴۔ کرپشن کی روک تھام کے لیے محکمہ خوراک ہر ڈیلر سے بذریعہ mobile application یا ایزی پیسہ رقم وصول کرے اور نقد وصولی کا نظام ختم کیا جائے۔

۵۔ تمام آٹا ڈیلرز کے نام ہر ڈپو کی دیوار پر معہ ایلوکیشن چسپاں ہونے چاہئیں تاکہ ہر شخص کو ان کے متعلق علم ہو۔ اور ہر آٹا ڈیلر کو مہینہ میں کوٹہ کے مطابق آٹھ مرتبہ کے بجائے دو مرتبہ آٹا سپلائی کیا جائے تاکہ لوگوں تک بروقت آٹا پہنچ سکے اور وہ بار بار ڈیلرز کے پاس جانے کی زحمت سے بچیں۔۶۔آٹا ڈیلر کو میرٹ پر اور علاقے کی ضرورت کے مطابق آٹا فراہم کیا جائے۷۔محکمہ خوراک میں ناقص گندم کی خریداری، مل اور ٹھیکیدار مافیا کے ساتھ ساتھ محکمہ خوراک کی ملی بھگت سے آٹا سمگلنگ / کرپشن، سال 1990ء اور مابعد ڈیلر حضرات سے زائد رقوم کی وصولی اور دیگر الزامات کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرارواقعی سزا مل سکے۔11مئی کے لانگ مارچ کے دوران راولاکوٹ کے مقام پر اور مابعد حکومت پاکستان کے نمائندوں اور آزاد جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری نے یہ تسلیم کیا کہ حکومت آزاد جموں کشمیر اعلیٰ حکومتی شخصیات کو حاصل مراعات کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنائے گی جس کے لیے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے نوٹیفیکیشن نمبر سروسز/جنرل/125/ 2024مورخہ 13مئی 2024ء کو جاری کیا لیکن پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس لیے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ؛۱۔حکمران اشرافیہ(سابقہ و موجودہ سمیت مقننہ/ انتظامیہ/عدلیہ) کی تمام مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔ موجودہ اور سابق ریٹائرڈ حکمران اشرافیہ/ججز/بیوروکریٹس کو حاصل جملہ مفت سہولیات کا خاتمہ کیا جائے۔ نیز مقننہ کی پنشن کا خاتمہ کیا جائے۔۲۔تمام حکمران طبقات کو 1300سی سی گاڑی (صرف ایک گاڑی) کے استعمال تک محدود کیا جائے۔۳۔حکمران اشرافیہ کے خاندانوں کے زیراستعمال سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں اور سرکاری گاڑیوں کو فقط سرکاری امور کی انجام دہی تک محدود رکھا جائے۔ نیز ان گھروں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو ان کے متعلقہ محکموں میں حاضر کیا جائے اور گھریلو کام کروا کر سرکاری ملازمین کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے۔۴۔وزراء کی تعداد کم کی جائے اور حکومت 7وزراء تک خود کو محدود کرے تاکہ خزانے پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ نیز مشیران اور پی آر او وغیرہ کی سیاسی بھرتیوں کا خاتمہ کیا جائے ۵۔ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں غیر ترقیاتی بجٹ کو کم کیا جائے۔۶۔غیر ضروری محکموں  اور آسامیوں کو ختم کیا جائے اور نئے محکمے بنانے کا عمل بند کیا جائے۔حکومت آزاد جموں کشمیر کی جانب سے جاری کیے گئے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے نوٹیفیکیشن نمبر سروسز/ انتظامیہ/ جی 7 (76)/ 2018مورخہ 4فر وری 2024ء پر وعدہ کے مطابق عمل کیا جائے۔ نوٹیفیکیشن کے نکات بذیل ہیں؛۱۔حکومت آزادکشمیر آزاد جموں وکشمیر بنک کو شیڈولڈ بنک بنانے کے حوالے سے تمام لوازمات پورا کروانے کا اہتمام کرے۔۲۔حکومت آزادکشمیر طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے وزیر ہائیر ایجوکیشن کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرے جو متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنی تجاویز بغرض حکومتی منظوری پیش کرے۔

۳۔ بلدیاتی نمائندگان کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔۴۔موبائل کمپنیوں کی سروس کو درست کرنے اور خطے میں انٹرنیٹ سروسزکو بہتر بنانے کے لیے PTAاور متعلقہ ذمہ داران کو پابند کیا جائے تاکہ وہ صارفین کو وہ سروسز مہیا کریں جس کی قیمت وہ لوگوں سے وصول کرتے ہیں۔۵۔پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکسز /فیسیں وغیرہ کو کے پی /پنجاب کے برابر لانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

۶۔ ٹرانسپورٹ پالیسی پر مروجہ قوانین اور قواعد کے تحت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔۷۔لکڑی کٹائی / سمگلنگ کی روک تھام اور مقامی ووڈ انڈسٹری کے ترقی کے لیے قانون سازی کی جائے۔۸۔احتساب کے نظام کو درست کیا جائے اور اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ دوران مذاکرات اور مورخہ 4 فروری کو ایکشن کمیٹی اور حکومتی مصالحتی کمیٹی کے مابین جن دیگر معاملات پر اتفاق ہوا تھا ان پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وہ مطالبات بذیل ہیں؛

۱۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ محررہ 15نومبر 2019ء پر من و عن عملدرآمد کیا جائے اوراس فیصلہ کی روشنی میں آزادکشمیر میں تعمیر تمام ہائیڈل پراجیکٹس کے معاہدات منظر عام پر لائے جائیں۔۲۔حکومت آزاد جموں کشمیر ECCکی جانب سے جاری کیے گئے فیصلہ محررہ 15مارچ 2019ء اور اس فیصلہ کی روشنی میں منگلا ریزنگ معاہدہ میں کی گئی ترمیم محررہ 11فروری 2022ء کو سرکاری سطح پر رد کرے۔۳۔حکومت پاکستان سے آزاد جموں کشمیر میں موجود تمام گرڈسٹیشنز کا انتظام و انصرام حاصل کیا جائے۔۴۔منگلا ڈیم سے ضلع میرپور اور ضلع بھمبر کے لیے پانی کی فراہمی بمطابق منگلا ریزنگ معاہدہ 2003ء یقینی بنانے کے لیے معاملہ حکومت پاکستان سے فوری طور پر یکسو کروانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔۵۔آزاد پتن ڈیم کی وجہ سے متاثرہ سڑک۔ آزاد پتن تا سون سڑک ضلع سدھنوتی کی حدود میں تعمیر کرنے اور سون کے مقام پر پل تعمیر کرنے کے معاملہ کو PSDPمیں شامل کروایا جائے اور رٹھوعہ ہریام پل کو مکمل کرنے کے لیے  بمطابق معاہدہ 4 فروری اقدامات کیے جائیں۔۶۔حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان کی بین الوزارتی کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی سفارشات کے مطابق حکومت پاکستان سے آزاد جموں کشمیر میں جاری ہائیڈل پراجیکٹس کا جی ایس ٹی وصول کیا جائے اور ان اجلاسوں کی تمام تفصیلات شہریان آزاد جموں کشمیر کے سامنے رکھی جائیں۔

۷۔ حکومت آزادجموں کشمیر نہر اپرجہلم کے آبیانہ سے متعلق معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھائے اور اس حوالے سے حکومت پاکستان/ حکومت پنجاب کے ذمہ واجب الادا رقم کے حصول کے لیے اقدامات کرے۔ اور منگلا اپر جہلم نہر سے 614 کیوسک پانی آزاد حکومت کو فراہم کیا جائے ۔

۸۔ ہائیڈل منصوبوں سے جڑے معاملات (مظفرآباد میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ پراجیکٹ، ان ٹیک وئیر پراجیکٹ، رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیرو دیگر) پر مجرمانہ غفلت اور تاخیری حربوں میں ملوث افراد/ محکموں / اتھارٹیز کے خلاف کارروائی کے لیے ہائیکورٹ کے فیصلہ محررہ 15نومبر 2019ء کی روشنی میں کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندہ کو بطور observerرکھا جائے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 13مئی 2024ء کے بعد سے یہ مطالبہ تسلسل کے ساتھ موجود ہے کہ 8مئی سے 13مئی 2024ء کے تمام تر واقعات کی ہائیکورٹ کے ججز کے ذریعے جوڈیشنل انکوائری کروائی جائے اور اس دوران ڈڈیال، اسلام گڑھ، کوٹلی اور مظفرآباد میں پرامن شرکائے لانگ مارچ پر تشدد کرنے والے افسران و سرکاری اہل کاران کے علاوہ 3شہریوں اور 1پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث افراد کا کھوج لگا کر انہیں ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس دوران حکومتی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجہ میں زخمی کیے گئے شہریوں کو ان کے علاج معالجہ کے لیے اخراجات فراہم کیے جائیں اور دوران تحریک سال 2023ء سے مئی 2024ء تک شہریان آزاد جموں کشمیر پر قائم کیے گئے مقدمات کو بلاتخصیص ختم کیا جائے چونکہ متذکرہ مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اس لیے ہمیں امید ہے کہ حکومت وقت ان معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ بصورت دیگر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی