درحقیقت تو نجی کالج واقعہ قوم کی اس عمومی فرسٹریشن کا مظہر ہے جو سیاستدانوں فوج، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور عدلیہ سمیت پاکستان کے ہر طاقتور طبقے کی جانب سے قوم کے مسلسل میریٹل ریپ کے باعث عوامی لاشعور میں مستقل جگہ بنا چکی۔
جسے آپ سانحہ نو مئی کہتے ہیں اس دن بھی عوام نے اسی فرسٹریشن کا اظہار کیا تھا۔
فوج سمیت تمام مقتدر طبقات کو جان لینا چاہیے کہ پہلے سے مشتعل قوم اگر ایک پرائیویٹ کالج سے متعلقہ کسی بے بنیاد افواہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ املاک کا اتنا نقصان کر سکتی ہے تو حکومتی شخصیات، فوج یا دیگر طاقتور طبقات سے متعلقہ کوئی ایسا موقع ملنے پر انکے ساتھ کیا کرے گی۔
پریشر ککر پھٹنے تک یہ عوامی فرسٹریشن کہیں نہ کہیں ظاہر ہوتی ہی رہے گی۔
فوج جو خود کو پاکستان کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر سمجھتی ہے اسے چاہیے کہ پریشر ککر پھٹنے سے پہلے اپنی اور پاکستان کی بقا کے لیے ایک وسیع البنیاد ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیئیشن کمیشن بنانے کا سوچے جہاں سب سے پہلے فوج خود اپنے وہ بلنڈرز قبول کرے جنہوں نے قوم کو اس ذہنی حالت تک پہنچایا ہے، پھر اس پیلٹ فارم پر ملک کے وہ سبھی سیاسی اور عدالتی ایکٹرز اپنی اپنی کوتاہیاں قبول کرتے ہوئے قوم کو پرامن انداز میں اگلا سفر کروانے کے اصول طے کریں۔
اب ظاہر ہے نہ فوج ایسا کرے گی نہ ہی دیگر ایکٹرز اپنی غلطیاں تسلیم کرنے پر آمادہ ہونگے،
تو پھر ہمیں کسی ایسے بڑے سانحے کا انتظار کرنا چاہیے جسکے بعد نہ فوج ریلیوینٹ رہے گی نہ عدالتیں اور نہ ہی جیل سے باہر اور جیل کے اندر بیٹھا کوئی سیاستدان۔
رہے ہر علاقے میں عوام کا خون چوستے لوکل پولیٹکل لارڈز، جاگیردار اور سرمایہ دار تو یہ ایسے لوگ کسی بڑے قومی بلوے کی پہلی سٹیج کے پہلے ہی گھنٹوں میں عوامی غیض و غضب کا شکار ہو جائیں گے۔ محمد رضوان خالد چوھدری
