عابد نامہ....... تحریر ڈاکٹر محمد عابد عباسی

 عابد نامہ 

تحریر ڈاکٹر محمد عابد عباسی 


 

یاد شہداے زلزلہ 19 سال مکمل زخم تازہ مشکلات کم نہ ہو سکیں 

 8 اکتبور 3 رمضان المبارک 2005 ءکے روز آزاد کشمیر اور پاکستان میں آنے والے قیامت خیز زلزلہ کو ہوے 19 سال مکمل 


8 اکتوبر کے دن ایک بار پھر جدا ہونے والوں کے زخم تازہ ہو گئے کی تاریخ کا یہ ناقابل فراموش زلزلہ 8 اکتوبر2005 کو صبح 8 بج کر 50 منٹ پر آیا، جب آزاد کشمیر، اسلام آباد، ایبٹ آباد، خیبرپختونخوا اور ملک کے بالائی علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی. اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلو میٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا

2005ءکے زلزلہ میں ہم سے ہزاروں پیارے جدا ہو گے تھے جبکہ لاکھوں افراد زخمی اور ہزاروں معزور ہوگے تھے جبکہ 95% املاک اور انفرسٹرکیچر تباہ ہوگیا تھا .اللہ پاک زلزلہ میں وفات پانے والے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرماے .آج کے دن شہداء زلزلہ کے کے لیے خصوصی دعاوں کا اہتمام کریں قیامت خیز زلزلہ کو19 سال مکمل ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں سرکاری اداروں کی تعمیرات مکمل نہ ہو سکیں آج بھی آزادکشمیر بالاکوٹ میں متاثرین امداد اور حکومتی توجہ کے منتظر میں سرکاری سکولوں کی تعمیر اور نی عمارات کی تعمیر نہ ہوسکی حکومتی بے حسی اور غفلت زلزلہ زدگان کے لیے آئی گی امداد کا 55 ارب روپے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نظر ہوگیا آزاد کشمیر کی سابق پیپلز پارٹی گورنمنٹ اور سابق ن لیگ گورنمنٹ سابق پی ٹی آئی گورنمنٹ موجود پی ڈی ایم حکومت بھی 19 سال گزرنے کے باوجود خاموش سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا دعوی کہ رقم واپس لیں گے ایک ہوائی بیان ہی ثابت ہوا سابق پاکستان ن لیگ حکومت بھی یہ رقم واپس نہ کرسکی اور نہ موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت سے امید ہے حقیقت تو یہ ہےرقم سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے فرینڈز آ ف پاکستان سے حاصل کی تھی اور اس سے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کرنی تھی مگر جہموریت پسند حکومتوں نے اس رقم کو سیاسی رشوت کے لیے استعمال کیا آج بھی کشمیر کی عوام حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ یہ رقم واپس آزادکشمیر کی حکومت کو دی جاے تاکہ آزادکشمیر میں تعمیر ترقی کے منصوبے مکمل ہو سکیں مسلم لیگ ن کی حکومت پانچ سالہ دورے حکومت مکمل کر کے اپنے انجا کو پہنچ گی موجودہ مکس اچار ہے مگر عوام کے مسائل حل نہ ہو سکےاقتدار سے قبل وزیر اعظم یہ رقم واپس لانے کا دعوی کرتے تھے مگر وہ یہ وعدہ بھی ایفاء نہ کر سکے مطالبات کی منظوری اب نہیں تو کھبی نہیں کشمیری مشکلات کامقابلہ کرتے آے ہیں مگر موجودہ نااہل حکمرانوں نے ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے آزادکشمیر میں احتجاج ہڑتالیں عوام کے کےلیے مزید مشکلات ہیں بجلی بل مہنگائی موجودہ نامعلوم حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے پہلے پی ٹی آئی کی حکومت کو بنے ایک سال سے زاہد ہوگیا ہے دو وزیر اعظم تبدیل ہوے ان سے عوام کو وہی امیدیں وابستہ ہیں جو پہلے حکمرانوں سے تھیں پہلے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی اچھے انسان تھے مگر وہ بھی چھ ماہ مشکل سے مکمل کردوسرے وزیراعظم اچھے مالدار اور مکمل تعمروترقی کے قائل ہیں سردار تنویر الیاس وزیراعظ چھ ماہ تو ان کے بھی گزر گے ہیں پاکستان میں پی ڈی ایم کی حکومت تھی جو عمران مخالف اتحاد پر مشتمیل تھی جس سے آزادکشمیر کے لیے خیر کی توقع نہیں چویدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنایا گیا ہے جو کابینہ کے کےبغیر چل چلرہا ہے آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا ان کی کارگردگی اور تعمیرو ترقی ہی فیصلہ کرے گی سننے میں آرہا ہے زلزلہ زدہ علاقوں میں جاری منصوب جات کے فنڈز روک دئیے گے ہیں اگر یہ سچ ہے تو پھر کیا تعمیرو ترقی ہوگی عوام مہنگائی کی چکی میں پیس رہی ہے بےروزگاری غربت بڑھ رہی ہے ان حالات میں کیا امید کی جاسکتی ہے مشکلات بڑھ رہی ہیں 8اکتوبر 2005 کے زلزلے کے زخم ابھی تازہ تھے کہ چار سال سے کروناواہرس بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ پھیل رہا ہے پوری دنیا کی معشیت متاثر ہو چکی ہے اس کے اثرات تباہ حال اور سہولیات سے محروم کشمیریوں پر بھی مرتب ہورے ہیں اور اس سے مزید زیر عتاب آ گے الیکشن پر ووٹ لیکر تعمیرو ترقی کے وعدے کیے گے مگر یہ سب جھوٹ ثابت ہوتے ہیں کروناواہرس کےلیے دی گی حکومت پاکستان کی امداد بھی کاغذات کی حد تک ہی رہی احساس پروگرام بھی ان تک پنچا جو ماضی کے منظور نظر لوگ تھے جن کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ تھے اس کے علاوه زلزلہ سے متاثر علاقوں کے لیے پیارا کشمیر پروگرام شروع کیا گیا جس کے زریعے سیز فارلائن پر بسنےوالوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرناتھا مگر سردارعتیق احمدخان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کروانے کے ساتھ ہی عوامی فلاحی منصوبہ جات فائلوں کی نظر ہوگے اب بھی حکومت پاکستان نے سیز فارلائن پر بسنے والوں کے لیے احساس کفالت پروگرام شروع کیا مگر اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا اور نہ حکومت آزادکشمیر نے غربت اور بےروزگاری ختم کرنے کے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی سابقہ حکومت نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے جس کی وجہ سے اکثریت شہری پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہیں کم آمدنی اور سفید پوش انسان کے لیے کوئی پروگرام نہیں بنایا زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تنگ آکر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سکولوں کی تعمیر اور رینویشن شروع کردی ہے جوکام محکمہ تعلیم اور حکومت کا ہے وہ گاوں کے لوگ خود کرنے پر مجبور ہیں دیون علی خان وزیر تعلیم سے استدعا ہے سکولوں کی عمارات کی تعمیر اور سٹاف حاضری اورکمی کو یقینی بناہیں مایوس کن امتحانات کے نتائج بھی سامنے رکھیں ایڈہاک ازم کو ختم کریں اور این ٹی اءس کے زریعے نئی بھرتیاں کریں بہت سے لوگ بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گے ہیں الیکشن سے قبل عوام میں متحرک نظر آنے والے آہستہ آہستہ غائب ہورے ہیں عوام کو پھر الیکشن میں سبز باغ دیکھاے گے ہیں 19 سال قبل آنے والا زلزلہ جہاں ہمارا امتحان تھا وہاں پر ایک سبق بھی تھا کہ دوسروں کے سہارے کمزور اور وقتی ہوتے ہیں محنت لگن اور الله پاک کی زات پر بھروسہ اور یقین مستقل مضبوط اور دیرپا ہوتا ہے زلزلہ بھی ایک پیغام تھا جسے حکمران نہ سمجھ سکے الله پاک زلزلے میں شہید ہونے والوں کی بخشش فرماے اور بچ جانے والوں کی مشکلات میں آسانی فرماے آمین کشمیری عوام کو مسائل اور مشکلات سے نجات دے آمین عوام کشمیر کی مشکلات کو الله پاک دور فرماے آمین حکمرانوں نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر وترقی کے نام پر ہمیشہ سیاست کی لوگ آج بھی اپنے اپنےپیاروں کی یاد میں روتے تڑپتے ہیں ان کے زخم تروتازه ہو جاتے ہیں ان کے کےمسائل کا مداوہ کوئی نہیں کرتا

جدید تر اس سے پرانی