دے مار تے ساڈھے چار تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی


دے مار  تے ساڈھے چار
تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہر بندے کے ہاتھ میں سمارٹ فون کا پستول ہے جس سے وہ جب چاہے فائر کر دے۔ یہ فائر کہیں نا کہیں جا لگے اور پھر ہم خیال لوگ اس فائر کو بم بنا لیں۔ ایک ویڈیو یا تصویر پر قیاس کر کے ہم اسے اپنے تئیں سچ سمجھ لیتے ہیں اور بغیر تحقیق کیے اسے شیئر کرتے جاتے ہیں۔
 بچھلے دنوں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اک وڈیو منفی طرز فکر کے ساتھ وائرل ہوئی۔ اکثر لوگوں نے اسے غور سے دیکھا اور سنا تک نہیں اور " دے مار تے ساڈھے چار " کے مصداق اسے شیئر کرتے گئے۔ اس وڈیو میں وہ جملہ موجود ہی نہیں جس پر اتنا شور مچایا جا رہا ہے کہ " میں نامحرم بچیوں کو شیلڈ نہیں دینا چاہتا۔"
اصل بات یہ تھی کہ ڈاکٹر زاکر نائیک وقت کے پابند انسان ہیں۔ وہ پاکستان کے اک مختصر دورے پر ہیں۔ انہوں نے پروگرام کو طے شدہ وقت سے آدھا گنٹہ زیادہ دیا۔ مگر ہم سب من حیث القوم وقت کی قدر نہ کرنے والی قوم ہیں۔ پروگرام کی انتظامیہ نے اضافی وقت گزرنے کے باوجود بھی پروگرام جاری رکھا اور طالبات کو ہاتھوں میں شیلڈز پکڑے اسٹیج پر آنے کااشارہ کیا جس پر ڈاکٹر صاحب نے اگلے پروگرام میں بروقت پہنچنے کے لیے مزید وقت کے لیے معذرت کر لی۔

ایسے واقعات سوشل میڈیا کے دور سے پہلے بھی شرمندگی و جگ ہنسائی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ سال 1983 کی بات ہے کہ چاند پر سب سے پہلے قدم رکھنے والے انسان نیل آرم سٹرانگ کے بارے میں خبر اُڑی کہ اس نے قاہرہ میں اذان کی آواز سن کر  یہ کہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ہے کہ یہی آواز انھوں نے چاند پر بھی سنی تھی۔ اس خبر کو سن کر سارے عالم اسلام میں سرشار کر دینے والی خوشی کا سماں پیدا ہوگیا تھا۔
ایسے وقت میں مولانا وحید الدین نے اسلامی اصول کے عین مطابق اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے سے قبل نیل آرم سٹرانگ کو خط لکھ کر اس بابت پوچھا۔ اس خط کے جواب میں اس نے اس خبر کو جھوٹا قرار دیا۔مولانا وحید الدین کے اس طرز عمل کو ہر سطح پر سراہا گیا کیونکہ کسی بھی جھوٹی خبر کا نتیجہ شرمندگی ہوتا ہے جبکہ تھوڑی سی تحقیق انسان کو شرمندگی سے بچانے کے ساتھ ساتھ وقار بھی عطا کرتی ہے۔
نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ اصل قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا کہ وہ چاند سے واپسی پہ کئی ممالک کے وزٹ کے دوران مصر کی الاظہر یونیورسٹی کو بھی گیا۔ وہاں اس نے اذان کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟
لوگوں نے بتایا کہ یہ نماز کے لیے دعوت ہے-
نیل آرم سٹرانگ نے کہا کہ:
 What a spacy sound
اس میں Spacy کا مطلب کشادہ یا وسیع پے۔ لیکن کچھ کم فہم افراد کے ہاتھوں اس کا مطلب خلائی شمار ہوتے ہوئے بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی- سنا ہے کہ بعد میں تمام اسلامی ممالک کی ایمبسیز کو امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ایک مراسلے کے زریعے اس کا رد کیا اور نیل آرم سٹرانگ کے مسلمان نہ ہونے کی خبر دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ خلابازوں کو مسلمان کرنے کی بجائے اپنے مسلمانوں کو خلاباز بناؤ ( واللہ العالم ).

آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا کے زریعے جہاں معلومات اور خبر تک رسائی آسان ترین ہوگئ ہے وہیں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے نے سچ کو لنگڑا اور جھوٹ کو توانا بھی کر دیا ہے۔ یہ لنگڑاتا سچ سوشل میڈیا کے دوڑتے جھوٹ کے ہاتھوں درست ہو کر بھی کبھی کبھار ہار جاتا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے کہ انسان نے بڑی بڑی جنگیں محض جھوٹے پروپیگنڈے کے زریعے جیت کر دکھائیں۔ جھوٹ کے زریعے علماء سُو نے بڑے بڑے فتنے برپا کیے۔ وہی فتنہ پرور جھوٹ آج سوشل میڈیا کے گھوڑے نہیں بلکہ بلٹ ٹرین پر سوار ہے۔ آناََ فاناََ بات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لمحوں میں پہنچ جاتی ہے اور پھر سچ اس کے مضر اثرات کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس تیز رفتاری کے دور میں تحقیق اور احتیاط کی ضرورت پہلے سے کروڑہا درجے بڑھ گئی ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل اللہ تعالی نے قرآن پاک میں رہتی دنیا تک کے لیے تحقیق کا جو اصول دیا اگر ہم اس پر عمل کریں تو کتنی تباہیاں اور فتنے دب سکتے ہیں۔ فرمانِ باری تعالی ہے کہ:

ترجمہ : ’’اے ایمان والو !اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو کہ پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
( الحجرات، آيت نمبر: 6)

آپ مشاہدہ کر کے دیکھ لیں۔پاکستان، بنگلادیش اور بھارت سمیت دنیا میں جہاں جہاں بھی مذہب کے نام پر گروہی یا ملکی فتنہ گری ہورہی ہے اس کے پیچھے 99 فی صد کیسز میں بغیر تصدیق کیے خبر پر یقین کر لینا کارفرما ہے۔ اگر خبر کی تصدیق کر لی جائے تو ایسا ہر معاملہ آغاز میں ہی تمام ہوجائے۔

 محققین کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبریں آناََ فاناََ ہر جگہ پھیلتی ہیں۔ ان کے سامنے اکثر حقیقت بھی دم توڑ دیتی ہے۔ گذشتہ دس برسوں ( 2006ء تا 2016ء )  میں 30 لاکھ افراد کی سوا لاکھ سے زیادہ ٹویٹس کی وسیع چھان پھٹک کے بعد تحقیقی میگزین ’سائنس‘ میں بتایا گیا کہ  یہ ٹویٹس جھوٹی یا جعلی خبروں پر مشتمل تھے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ نتائج فیس بک اور یوٹیوب سمیت سبھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بھی صحیح ہیں۔ میساچوسیٹس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں اس ڈیٹا پر تحقیق اور نگرانی کرنے والے سوروش ووشوگی کے مطابق ایسا مواد یعنی افواہیں پھیلانا یا ان پر یقین کر لینا انسانی مزاج کا حصہ ہے اور سوشل میڈیا سے انھیں ایک آسان اور تیز ترین ذریعہ مل گیا ہے۔
اس تحقیقی رپورٹ کے ساتھ ایک مضمون میں کئی مشہور ماہرینِ سیاسیات نے مل کر لکھا ہے کہ اکیسویں صدی کی خبروں کے بازار میں ایک ایسے نئے نظام کی ضرورت ہے جس کے زریعے جھوٹ کے بجائے سچ کو اس کا مقام مل سکے۔سوروش ووشوگی کے مطابق ایسے نظام کو لانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ سچی خبر کے مقابلے میں جھوٹ چھ گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ سیاست، مذہب اور جنگ سمیت ہر شعبہ کی خبریں اک کلک سے فوراََ شیئر ہوجاتی ہیں اور بہت آسانی سے ٹرینڈ کرنے لگتی ہیں۔

اندازََ سولہ سترہ سال پہلے اوکاڑہ کے ایک لڑکے کے بارے میں ایسی ہی اک فیک خبر کافی وائرل ہوئی تھی کہ اس  نے برین بینچ نامی ویب سائٹ پر کوئی ریکارڈ سازی کی ہے۔ ساتھ ہی یہ خبریں بھی نکلی تھیں کہ اسے بل گیٹس نے انتہائی زیادہ تنخواہ کی آفر کی ہے۔ اس خبر پر اک پروگرام میں آفتاب اقبال نے بھی اچھا خاصا تبصرہ کر کے اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ لڑکا یونیورسٹیوں میں لیکچرز تک دینے کے لیے بلایا جاتا رہا ہے۔ بعد میں کسی نے برین بینچ نامی سائیٹ کو ای میل کر کے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ یہ تو کوئی خاص بات نہیں کیونکہ جتنا سکور بتایا جا رہا ہے، اتنا تو سینکڑوں لوگوں کا آ جاتا ہے۔۔ رسول پاکؐ کا ارشاد ہے: 

" آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔"
(صحيح مسلم)

سوشل میڈیائی مضرات کے اس خطرناک ترین دور میں ہمیں سمارٹ فون کے " دے مار تے ساڈھے چار " استعمال میں بہت احتیاط برتنی چاہے کیونکہ پہلے جس انتشار میں ہفتوں، مہینوں یا سالوں لگتے تھے اب وہ چند لمحوں کی مار ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بابت ایسے واضح احکامات موجود ہے کہ جن پر عمل کر کے ہم سمجھ اور ناسمجھی دونوں میں کسی بھی واقعے کے جھوٹ شریک ہو کر انتشار، فتنے اور بربادی کے گناہ گار بن سکتے ہیں۔۔اللہ ہم سب پر اپنی خصوصی نظر کرم رکھے۔۔آمین ثم آمین۔


 

جدید تر اس سے پرانی