لفظوں سے خوشبو آئے
تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی
ایک بادشاہ نے نجومی سے اپنی قسمت کا حال پوچھا۔ نجومی نے حساب کر کے بتایا کہ آپ کے تمام رشتہ دار آپ کے سامنے فوت ہو جائیں گے۔ بادشاہ کو یہ سن کر غصہ آگیا اور نجومی کو جیل میں ڈال دیا۔ بادشاہ کو پریشان دیکھ کر ایک دوسرے نجومی نے حساب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ آپ نے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ لمبی عمر پائی ہے۔ یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نجومی کو انعامات سے نوازا ۔
قارئین کرام ! یہ بات کہنے کا سلیقہ اور لفظوں کی خوشبو ہی تو تھی کہ جس نے دوسرے نجومی کو انعامات عطا کروائے۔ اگر کسی کو بات کرنے کا سلیقہ نہ آتا ہو تو وہ پہلے نجومی کی طرح قابل گرفت ٹھہرتا ہے۔ سچ ہے کہ ہماری زبان ہمارے ترجمان کا کردار ادا کرتی یے اس لیے بات کرنے کا سلیقہ بہت ضروری ہے۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں گفتگو کو دھیمے انداز اور سلجھاپے سے معطر رکھنے کے بارے میں واضح فرمان موجود ہیں۔ مثلاََ قرآن پاک میں حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو گفتگو میں آواز و الفاظ کے بارے میں نصیحت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ: اور اپنی آواز کو پست کر ،بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔ ( لقمان۔۔19)
اسی طرح بخاری شریف میں حدیث ہے کہ آپؐ اتنی واضح اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپؐ کے الفاظ گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
المختصر اسلام ہمیں بات چیت میں اختلافِ رائے کے باوجود بھی سلجھاپے، مدمقابل کی رائے کے احترام، نرمی، درگزر، دوسروں کی عزت نفس کے خیال اور بحث و جھگڑے سے پرہیز کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حضور پاکؐ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیاں ہمارے سامنے اس بات کا عملی نمونہ ہیں۔ گفتگو میں آداب کا خیال رکھتے ہوئے سلیقے سے معاملات حل کرنا اسلام کی بنیادی روح ہے۔
دور حاضر میں سوشل میڈیا نے سب کے لیے ہر مسئلے میں اظہار رائے کو آسان ترین کر دیا ہے۔ آزادیء اظہار رائے کے نام پر آزادیءبھونکاٹ عام ہوگئی ہے۔کئی لوگ اس خوف سے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے کہ گفتگو کے سلیقے سے عاری توپوں کا رُخ کہیں ان کی طرف نہ مڑ جائے۔ مسلکی، مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا سیل بنا رکھے ہیں جن کی مدد سے دن رات مخالفین کو ننگا کیا جاتا ہے۔اس طرز عمل نے معاشرے کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔اس بدزبانی پر اقبال کا یہ شعر مکمل فٹ نظر آتا ہے :
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
ایسی صورت حال میں بحث اور اختلاف رائے کے دوران اسوۂ نبویؐ پر عمل مزید ضروری ہوگیا ہے۔ ایک سلجھے ہوئے، مہربان اور مضبوط معاشرہ کی تشکیل کے لیے گفتگو کا ہنر سیکھنا بہت ضروری ہے۔اچھی گفتگو اور معطر الفاظ کے لیے ضروری ہے کہ انسان ظاہری حلیے کہ بناوٹ سجاوٹ سے باہر نکل کر باہر نکل کر اپنی شخصیت کی بہتری پر توجہ دے۔ کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ و مشاہدہ کرے، کتابیں پڑھے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی زبان و بیان کی بہتری پر غور کرے۔ میٹھا لہجہ‘سلجھا انداز اور خوبصورت لفظوں کا چناؤ گفتگو میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے بولنے کا انداز، دوسروں کی بات کو توجہ دینا اور احترام و خلوص سے معطر الفاظ اک انتہائی پائیدار اثر چھوڑتے ہوئے ہمیں دوسروں کے دل میں ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔گزرے وقتوں میں اک ضرب المثل مشہور تھی کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ کبھی واپس نہیں آتے۔ شیخ سعدیؒ نے اس بات کو یوں فرمایا:
’’تیر از خدنگ جَستہ و حرف از زبان گفتہ باز نمی آئد‘‘۔ یہی بات وارث شاہؒ نے بھی اک مصرعے میں یوں کہی:
" گئی گَل زبان تھیں تیر چُھٹا، گئی روح قلبوت نہ آوندی نی"
یہ ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم کسی کے دل میں بس جاتے ہیں یا دل سے نکل جاتے ہیں۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ غصے کی حالت میں کبھی جواب نہ دیں اور بات کے پس منظر کو سمجھ کر معاملات کو درست سمت میں لے کر جائیں۔ ہمارے الفاظ ہماری شخصیت اور تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ الفاظ میں مٹھاس اور خوشبو پیدا کر کے انسان بڑے بڑے معاملات باآسانی سلجھا سکتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ دورانِ گفتگو کوئی 'طعنہ بازی'، 'ذاتیات'، اور ' ناپسندیدہ مذاق' سے بات بگڑ جاتی ہے اور جب پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ صرف 'مذاق ہی تو کیا تھا'۔ اس سلسلے میں کلیم عاجز کا کیا خوبصورت شعر ہے:
بات چاہے بےسلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے
ساری باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ اگر ہمارے لفظوں سے محبت، خلوص اور سلجھاپے کی خوشبو آئے تو معاشرے کے نصف سے زائد مسائل اور پریشانیاں خود بخود ختم ہوجائیں گی۔نرم لہجے اور تحمل سے گفتگو پر رفیق خیال نے کیا خوبصورت شعر کہا ہے
نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو
پھر بصد شوق سر عام مجھے مات کرو
