حکیم الامت علامہ محمد اقبال
کالم نگار: مدثر یوسف پاشا
علامہ محمد اقبال کا شمار برصغیر کے عظیم مفکرین، شاعروں، اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ ان کی فکری بصیرت، فلسفۂ خودی، اور امت مسلمہ کی بیداری کے پیغام نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ اقبال کی شخصیت میں دانش، فہم و فراست اور قومی درد کی جو آمیزش تھی، وہ انہیں ایک عظیم مدبر اور حکیم الامت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ ان کی شخصیت صرف شاعر یا فلسفی تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ تھی جو مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے مصروف عمل رہی۔
علامہ اقبال کی بصیرت ان کے کلام، خطبات اور مکالمات میں صاف نظر آتی ہے۔ انہوں نے مغربی تہذیب اور فلسفے کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس پر تنقیدی نگاہ بھی ڈالی۔ اقبال نے مغرب کے ظاہری چمک دمک اور مادی ترقی کے پیچھے چھپے اخلاقی زوال کو سمجھا اور اس کا مقابلہ اسلامی اقدار اور فکر سے کیا۔ ان کی دانشورانہ بصیرت نے مسلمانوں کو بتایا کہ مادی ترقی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی اقدار کو بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔
اقبال کی مدبرانہ سوچ کا اندازہ ان کے خطبات، شعری کلام اور مکاتیب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو ان کی اصل حیثیت اور مقصد یاد دلایا۔ ان کی سوچ محض شاعری تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے ایک باقاعدہ فکری نظام بھی پیش کیا جس میں خودی کا فلسفہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسفۂ خودی کے ذریعے اقبال نے مسلمانوں کو بتایا کہ خودی یا خود اعتمادی ہی قوموں کو بلند کر سکتی ہے۔ ان کی نظم "شکوہ" اور "جواب شکوہ" اس بات کی بہترین مثال ہیں جن میں انہوں نے مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کی یاد دہانی کرائی اور ان کی شکست و زوال کی وجوہات بیان کیں۔
علامہ اقبال کو "حکیم الامت" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اسلامی فلسفہ اور فکر کی روشنی میں امت مسلمہ کے مسائل کو سمجھا اور ان کا حل پیش کیا۔ ان کی شاعری اور فلسفیانہ کلام میں اسلامی عقائد اور تعلیمات کا گہرا اثر موجود ہے۔ انہوں نے ہمیشہ امت مسلمہ کو خود اعتمادی، علم و عمل اور اتحاد کی طرف مائل کیا اور انہیں بتایا کہ اگر وہ اپنے دینی اصولوں کو فراموش نہ کریں تو دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں۔
اقبال کا فلسفۂ خودی دراصل اسلامی فکر اور روحانیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرد اور قوم کی ترقی خودی میں پنہاں ہے۔ خودی کا مطلب اپنی اصل کو پہچاننا اور اس پر قائم رہنا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمان جب تک اپنی خودی کو بیدار نہیں کریں گے، تب تک ترقی اور کامیابی ان سے دور رہے گی۔ فلسفۂ خودی کا مقصد انسان کو اس کی حقیقی قوت اور مقصد سے روشناس کرانا ہے اور اس کو اللہ کے قریب کرنا ہے۔
علامہ اقبال کے کلام کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کرنا اور انہیں عملی جدوجہد کی طرف راغب کرنا تھا۔ ان کی شاعری مسلمانوں کے لیے ایک پیغام بیداری تھی، جس میں انہوں نے خواب غفلت سے بیدار ہو کر ایک مضبوط قوم بننے کی تلقین کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ دوبارہ دنیا کی قیادت کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کریں اور دینی اصولوں پر عمل پیرا ہوں.
اقبال کی وفات کے بعد بھی ان کے پیغامات، ان کی شاعری اور فلسفہ ہمیں رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ ان کا پیغام ہمیشہ کے لیے تازہ ہے اور آج کے دور میں بھی ہمیں ایک کامیاب، خوددار اور باعزت زندگی گزارنے کا سبق دیتا ہے۔ ان کے افکار کو اگر ہم اپنی زندگیوں میں جگہ دیں تو یقیناً ہمارے معاشرتی اور انفرادی مسائل کا حل بھی ہمیں مل سکتا ہے.
علامہ محمد اقبال کا شمار بلا شبہ برصغیر اور امت مسلمہ کے عظیم ترین مفکرین اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ ان کی مدبرانہ سوچ اور امت کی رہنمائی کا عزم انہیں "حکیم الامت" کا لقب بخشتا ہے۔ آج جب امت مسلمہ مشکلات اور چیلنجز سے دوچار ہے، ہمیں اقبال کے افکار سے روشنی حاصل کرنی چاہیے۔ ان کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھیں، اور ایک مضبوط اور خوددار قوم بننے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
