کٹھاڑ دلاور خان کے گاؤں پچوانہ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں یہ جاننے کو ملتا ہے کہ ایک معاشرہ جنت کا نمونہ کیسے بن سکتا ہے۔ پچوانہ، جو میرپور آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال کی یونین کونسل کا حصہ ہے، چند سال قبل عام دیہات کی طرح مسائل سے دوچار تھا۔ خاندانی تنازعات، زمینی جھگڑے، اور ایک دوسرے سے میل جول کی کمی وہاں کے معاشرتی حالات کو پیچیدہ بنا چکے تھے۔ مگر ایک انقلابی فیصلے نے ان حالات کو بدل دیا، اور وہ فیصلہ تھا "مثالی معاشرہ" کا قیام۔ مثالی معاشرے کی بنیاد معافی اور مکالمہ پر رکھی گئی۔ اس معاشرے میں ماہانہ بیٹھک کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں لوگ کھلے دل سے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو معاف کرتے ہیں۔ اگر کوئی تنازعہ پیدا ہو تو اجتماعی مشاورت سے اس کا حل نکالا جاتا ہے، یوں کوئی بھی ناراضی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
اس معاشرے کے دو بنیادی اصول ہیں:
1. تحمل سے بات سنی جائے۔
2. شائستگی سے بات کی جائے۔
یہ اصول عدم برداشت کے خاتمے اور باہمی احترام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سنہ دو ہزار چوبیس کے ماہ دسمبر کی آٹھ تاریخ کو سہ پہر میں مثالی معاشرہ پچوانہ کا 53واں ماہانہ اجلاس حاجی عبد القیوم صدر کمیٹی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گاؤں کے بزرگ، نوجوان اور بچے شریک ہوئے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید فرقان حمید سے ہوا، جس کی سعادت قاری عبداللہ نے حاصل کی۔ اس کے بعد کمیٹی کے زیر انتظام امور جیسے مسجد، ڈیتھ کمیٹی اور لنگر فنڈز کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
مہمانانِ خصوصی اعجاز احمد خان، قاری عبداللہ، اور فاروق احمد کیانی کا اجلاس میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔ عنصر علی خان نے خصوصی طور پر اعجاز احمد خان کا شکریہ ادا کیا، جو برطانیہ میں رہتے ہوئے مثالی معاشرہ کے مختلف امور کو نہایت کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم گاؤں کے افراد کو متحرک کرنے اور مثالی معاشرہ کی نمایاں حیثیت کو اجاگر کرنے میں ان کا کردار قابل تحسین ہے۔فاروق احمد کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ گاؤں ان کا ننھیال ہے اور مثالی معاشرہ کے کام نے انہیں اپنے ننھیال پر مزید فخر کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو جاری رکھنے والوں کو استقامت اور ہمت عطا فرمائے۔ مزید برآں، انہوں نے اپنی شاعری سے شرکاء کو محظوظ کیا۔ قاری عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مثالی معاشرہ پچوانہ سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنے خاندان میں ایک مثالی کنبہ قائم کیا ہے، جہاں تمام افراد ہر ماہ ایک گھر جا کر اسی طرز کا اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کنبہ کو اکٹھا رکھنا مشکل کام ہے، اور ایک گاؤں کے افراد کو متحد کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار ہے۔ لیکن پچوانہ کے لوگوں کا مسلسل اس مشن کو جاری رکھنا قابل تقلید ہےاور یہی حقیقی کامیابی ہے۔
اجلاس کے مہمان خصوصی اعجاز احمد خان نے مثالی معاشرہ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کام کی اہمیت شاید ہر کسی کو محسوس نہ ہو، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی افادیت سب پر واضح ہو رہی ہے۔ برطانیہ میں مقیم گاؤں کے لوگ اس کام پر خصوصی نظر رکھتے ہیں اور اپنے لوگوں کے درمیان نہ ہونے کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو تاکید کی کہ یہ ذمہ داری صرف چند افراد کی نہیں بلکہ سب کو اس کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ ہر ماہانہ اجلاس میں گاؤں کے زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں۔ مزید برآں، انہوں نے اللہ کی مخلوق، خاص طور پر جانوروں کے ساتھ مہربانی برتنے کی تلقین کی اور کہا کہ انہیں بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
آخر میں امتیاز حسین راجہ ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "مثالی معاشرہ پچوانہ" کتاب کی اشاعت کے بعد "مثالی معاشرہ میگزین" کی اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلِ علم مثالی معاشرہ کے کام کو سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک دن مثالی معاشرہ کا یہ کام پوری دنیا کے لیے قابلِ تقلید بنے گا۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ابتدائی دنوں میں انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ پانچ سال کے اندر مثالی معاشرہ کی اہمیت پاکستان کے ہر علاقے میں پہنچ چکی ہو گی اور آج یہ بات حقیقت بن چکی ہے۔ اب اہلِ دانش اور اہلِ عقل نہ صرف اس کام سے متاثر ہیں بلکہ اسے اپنانے پر بھی زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دس افراد جو خاص نظریے کے ساتھ وابستہ ہو کر اپنی زندگیاں لوگوں کی فلاح کے لیے خرچ کر دیں ان کی ضرورت ہےجس دن ان افراد نےمکمل نظریے کو اپنا کر لوگوں کی قسمت بدلنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں، اس دن اس کام کی اہمیت کا اندازہ پوری دنیا کو ہو جائے گا۔ بعد ازاں، انہوں نے لنگرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حصہ ڈالنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ "میرے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرو"۔ لہٰذا جو لوگ ہر ماہ گاؤں کے افراد کو کھانا کھلا رہے ہیں، وہ اپنی آخرت کے لیے سامان بنا رہے ہیں کیونکہ لوگوں کو کھانا کھلانا انبیاء کی صفات میں شامل ہے۔ آخر میں، انہوں نے راجہ وقاص خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اپنی ذاتی لائبریری، جو کہ عمدہ کتابوں کا خزانہ ہے، مثالی معاشرہ کی لائبریری کے لیے وقف کر دی۔ ان کے اس اقدام کو حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس کے بعد اس ماہ کا کھانا کھلانے پر شکیل احمد خان کا شکریہ ادا کیا گیا اور تمام اہل گاؤں بلخصوص والدہ شکیل احمد خان اور والدہ راجہ رفاقت خان جو کہ ان دنوں علیل ہیں ان کی صحتیابی کی لیے دعا کی گی۔
