شامی مجاہدین دمشق میں داخل ہو گئے، صدر اسد ملک سے فرار
مختلف خبر رساں اداروں کی دمشق سے ملنے والی رپورٹوں میں مجاہدین کے ملکی دارالحکومت میں داخلے اور صدر اسد کے بیرون ملک چلے جانے کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شامی وزیر اعظم نے پیشکش کی ہے کہ وہ ملک میں پرامن انتقال اقتدار کے لیے تیار ہیں جبکہ دمشق کے ہوائی اڈے پر تعینات حکومتی فورسز بھی مبینہ طور پر وہاں سے رخصت ہو گئی ہیں۔
ملکی دارالحکومت میں داخلے کے بعد شام کے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے ان باغیوں کے ایک بیان میں آج اتوار کے روز کہا گیا کہ انہوں نے 24 برسوں سے برسراقتدار بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور ملکی جیلوں میں قید تمام قیدی رہا کر دیے ہیں۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور ڈی پی اے نے شامی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملکی فوج کی اعلیٰ کمان نے بھی اپنے تمام افسران کو اطلاع کر دی ہے کہ ملک میں صدر بشار الاسد کا دور اقتدار ختم ہو گیا ہے۔
سرکاری فورسز کے اہلکاروں کو یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ''اب سروس میں نہیں ہیں۔‘‘
عینی شاہدین کے مطابق آج اتوار کی صبح جب باغی دمشق میں داخل ہوئے، تو وہاں شامی فوج کی تعیناتی کے کوئی نشان نہیں تھے۔ اکثر فوجی چیک پوسٹیں خالی پڑی تھیں جبکہ وہاں زمین پر پھینکی ہوئی استعمال شدہ فوجی وردیاں پڑی تھیں اور بشار الاسد کے پوسٹر بکھرے ہوئے تھے۔
