کسی نے "مولوی" کہہ کر محدود سوچ کا حامل قرار دیا تو کسی نے قوم پرست کہہ کر "انڈین ایجنٹ" قرار دیا اور کوئی اسے دوکاندار کہہ کر اپنی دکانداری چمکانے کا طعنہ دیتا رہا۔
غیروں نے الزام لگائے اور اپنے ساتھ چھوڑ گئے۔ قریبی لوگوں نے منافقانہ روش بھی اختیار کی لیکن وہ یہ تمام زہر کے پیالے پی گیا لیکن بولا نہیں۔
وہ چاہتا تو ایک پریس کانفرنس کرکے تمام حقائق سامنے لاکر آرام سکون سے گھر میں آرام کرتا لیکن اس نے مُشکل راستہ اختیار کیا۔ ان تمام الزامات کے باوجود اس کے بدترین دشمن بھی یہ قبول کرتے ہیں کہ کوئی نہ اسے کمپرومائز کروا سکا اور نہ خرید سکا۔
اس جرات ، بہادری اور استقامت کے پیکر کا نام عمر نذیر کشمیری ہے۔ یہ تمام حقائق وہ ہیں جو مجھ سمیت آپ سب نے خود دیکھے ہیں ۔
مشورہ یہی ہے کہ اس شخص کے خلاف مستقبل میں بھرپور پروپیگنڈہ مہم شروع ہونے والی ہے ، مضبوطی سے عمر نذیر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جڑے رہیں۔
