فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے جنرل عاصم منیر کا خطاب۔۔۔۔۔۔ ایک واضع پیغام
سردار عبدالخالق وصی
کوئی بھی جمہوری ریاست تین ستونوں پر کھڑی ھوتی ھے پارلیمنٹ،انتظامیہ اور عدلیہ۔
پارلیمنٹ قانون سازی کے علاوہ پالیسی دیتی ھے،عدلیہ کے بارے میں یہ تصور ھے کہ ججز نہیں بولتے بلکہ انکے فیصلے بولتے ھیں لیکن ستم ظریفی یہ ھے کہ ھمارے ھاں ججز کے فیصلے کم اور ججز زیادہ بولتے رھے ھیں انکی تقاریر زینت قرطاس اور زرائع ابلاغ پر اس قدر نمایاں رھتی ھیں کہ عام آدمی کو یہ بتانے میں کوئی تردد نہیں ھوتا کہ بالعموم کون سا جج کیا فیصلہ صادر کرے گا۔
اس کے مقابلہ میں ھماری عساکر کے اھداف انکے اداروں کے اجلاسوں سے عیاں رھتے ھیں کہ وہ بین السطور کس سمت میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ھیں۔
موجودہ
فارمیشن کمانڈرز کانفرنس اس بارے راھنمائی بھی فراھم کرتی ھے اور حکومت کے ساتھ سیسہ پلائی ھوئی دیوار کے ساتھ کھڑی نظر آتی ھے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر میں مکمل یکجہتی واضع نظر آتی ھے۔ یہی وجہ ھے کہ اس وقت ایک طرف تو دھشت گردوں کی سرکوبی کا عمل تیزی سے جاری ھے اور سٹاک ایکسچینج تاریخ کے بلند تر سطح کو چھو رھا ھے۔تحریک انصاف کی منفی اور ملک دشمن سرگرمیوں کا جن بوتل میں بند ھوتا نظر آرھا ھے۔
فارمیشن کمانڈر کانفرنس پاکستان میں اعلیٰ عسکری قیادت کا باقاعدہ اجلاس ہے، جو عام طور پر ہر 2-3 ماہ بعد منعقد ہوتا ہے۔ کانفرنس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف بلحاظ عہدہ و منصب کرتے ھیں اور اس میں فارمیشن کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شریک ھوتے ھیں جو گزشتہ اور آئندہ آنے والے مہینوں کی منصوبہ بندی کا خاکہ پیش کرتے ھیں۔
فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں قومی سلامتی، دفاع اور داخلی سلامتی سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ھے۔ کچھ اہم مسائل جن پر عام طور پر بحث کی جاتی ہے ان میں
بیرونی سلامتی کے خطرات بشمول لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بھارت کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال۔
داخلی سلامتی کے چیلنجز، بشمول دہشت گردی، انتہا پسندی، اور ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتحال۔
ابھرتے ہوئے خطرات کا جواب دینے کے لیے فوج کی آپریشنل تیاری۔
پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت،
افغانستان اور ایران سے متعلق بارڈر مینجمنٹ اور سیکورٹی کے مسائل۔
فارمیشن/ کور کمانڈرز کانفرنس کی اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ اعلیٰ عسکری قیادت کو قومی سلامتی کے اہم امور پر تبادلہ خیال اور غور و خوض کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔
ھماری افواج صرف دفاعی امور پر ھی توجہ نہیں مرکوز رکھتی بلکہ
فوج کی حکمت عملی اور کارروائیوں کو قومی سلامتی کے مقاصد سے ہم آہنگ رکھنے،
ابھرتے ہوئے خطرات کا جواب دینے کے لیے آپریشنل تیاری،
مختلف فوجی فارمیشنوں اور یونٹوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ
اہم قومی سلامتی کے امور پر عسکری قیادت کی رہنمائی بھی شامل رھتی ھے۔
حالیہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی جانب سے حکومت اور عوام کے لیے جو پیغام دیا گیا ہے وہ قومی سلامتی کے لیے یقین دہانی اور عزم کا اظہار ہے۔ یہ کانفرنس فوج کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔
مجموعی طور پر کور کمانڈرز کانفرنس فوج کی حکمت عملی اور آپریشنز کی تشکیل اور ملک کی قومی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس حوالے سے موجودہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے اپنے جو اھداف مقرر کئے ھیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی تقریر سے واضع راھنمائی ملتی ھے۔
فورم کا آغاز مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء اور ملک کی سلامتی، خودمختاری اور حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں تحریک انصاف کی وفاقی دارالحکومت پر یلغار کے نتیجے میں ھونے والے پر تشدد مظاھروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وہ اہلکار جنہوں نے انتظامی امور کی انجام دہی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا انکے لئے فاتحہ خوانی سے ھوا۔
فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں مظالم کی شدید مذمت کی اور فوجی جارحیت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانونی اقدامات کی حمایت اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے روایتی اصولی موقف پر سختی سے کار بند ھے۔
شرکاء کانفرنس کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے سیکورٹی کے موجودہ ماحول کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
فورم نے انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کا ایک جامع تجزیہ کیا اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور دشمن قوتوں کی ایماء پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کام کرنے والوں کو بے اثر کرنے کا عزم کیا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے، بی ایل اے مجید بریگیڈ سمیت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اندر دھشت گردی،فرقہ واریت اور پاکستان مخالف طالبان کی کاروائیوں کو سختی سے کچلنے کا اعادہ کیا۔
فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے اہم سرکاری عمارتوں کو محفوظ بنانے اور دوست ممالک سے آنیوالے سربراہان مملکت و حکومت اور قابل قدر دورہ کرنے والے وفود کو محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے لیے دارالحکومت میں فوج کی قانونی تعیناتی کے نتیجے میں کیے جانے والے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ پہلے سے منصوبہ بند مربوط اور پہلے سے طے شدہ پروپیگنڈہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے پاکستان کی عوام اور مسلح افواج اور اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر ایک مذموم ڈیزائن کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فضول کوشش، جو بیرونی کھلاڑیوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے، کبھی کامیاب نہیں ہو گی، انشاء اللہ۔
جنرل سید عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومت زہر اگلنے، جھوٹ بولنے اور پولرائزیشن کے بیج بونے کے لیے اظہار رائے کی آزادی کے بے لاگ اور غیر اخلاقی استعمال کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ضوابط کو نافذ کرے اور ان پر عمل درآمد کرے۔ سیاسی/مالی مفادات کے لیے جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اس کا اظہار کیا کہ فوج قوم اور عوام کی خدمت کے لیے پر عزم ہے اور تمام بیرونی اور اندرونی خطرات سے بغیر کسی تعصب اور سیاسی وابستگی کے حفاظت کرتی ہے، اور بے گناہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوئی بھی کوشش اور ذاتی مفادات کے لیے تشدد کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنا ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دہشت گردوں خصوصاً فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغان سر زمین کے بے دریغ استعمال کو بھی تشویش کے ساتھ نوٹ کیا گیا۔ جنرل عاصم منیر نے زور دیا کہ یہ دونوں پڑوسی اسلامی ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند مصروفیات پر توجہ مرکوز کریں اور آئی اے جی کو دہشت گردوں کے ذریعہ اپنی سر زمین کے استعمال کو روکنے کے لیے واضح اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جنرل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے شروع کی جانے والی تمام سماجی و اقتصادی اور ترقیاتی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ ان صوبوں کے امن پسند لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے جو دہشت گردی کی لعنت کے خلاف اداروں کی معاونت و ساتھ دیتے ھیں انکو ھر طرح کا تحفظ فراھم کیا جائے۔
سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے فوج کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف نے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، غیر قانونی سپیکٹرم کے خلاف کریک ڈاؤن اور دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے میں حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کے تسلسل کو دھرایا۔
کانفرنس کے اختتام پر، جنرل عاصم منیر نے پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی غیر متزلزل لگن کی اہمیت پر زور دیا، باوجود اس کے کہ مشکلات اور سخت چیلنجز درپیش ھیں پاکستانی افواج ان چیلنجوں کا مقابل کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ھے اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ھے حکومت، اس کے ادارے اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں ملکر پاکستان کو دھشت گردی کے عفریت سے پاک کرنے پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام کے لئے یکجان ھوکر کردار ادا کریں۔
