"جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے لئے کرنے کے ضروری کام ".... پروفیسر عبد العزیز نجم

 



"جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے لئے کرنے                                   

                            کے ضروری کام "


جب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی بوجوہ سست روی کا شکار ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے کشمیر کے اس برائے نام آزاد خطے کو جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت میں کام لینے کے لیے لا کھڑا کیا اور بیداری کی خوب لہر چلی۔ہر ڈویژن سے لوگ اس فورم تلے متحد ہوئے اور گزشتہ پونی صدی کی کامیاب ترین تحریک چلائی ۔۔اگر مظفرآباد ڈویژن نے خون پیش کیا تو پونچھ والے اس کے بانی اور روانی ٹھہرے۔میرپور ڈویژن نے عملی مرحلے میں اسے نہ صرف آکسیجن فراہم کیا بلکہ ریاستی بدترین تشدد کا سامنا کیا اور سب سے زیادہ قیدی بھی اسی ڈویژن کے ضلع بھمبر سے ہوئے،اسی ڈویژن سے واحد خاتون (محترمہ نسرین ملک)نے نہ صرف اسیری کاٹی بلکہ تشدد اور شرمناک رویوں کا دلیری سے سامنا کیا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ اس اتفاقی اور آفاقی اتحاد کو فوراً ایک منظم اور مربوط شکل دی جاتی(جس کے لئے راقم روز اول سے ذمہ داران سے عرض کرتا آ رہا ہے).وارڈ سے لیکر یونین اور پھر تحصیل واضلاع سے ڈویژنز اور مرکز تک باڈیز تشکیل دی جاتیں۔لوگوں کو ایکشن کمیٹی کے اغراض و مقاصد سمجھانے کے لیے باقاعدہ ایک منشور کا کتابچہ تیار کیا جاتا اور عام آدمی کو اس کے متعلق ایجوکیٹ کیا جاتا۔مگر ایسا نہ کیا گیا اب بھی اس کام کو اولین ایجنڈے میں شامل نہ کیا گیا تو خدا نخواستہ کمیٹی کے وجود کو مستقل طور پر برقرار رکھنے میں مشکلات ہونگی۔

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بہت سارے رضا کار جو کور کمیٹی کے ممبران ہیں اور نہ ہی کمیٹی میں معروف مگر ان کی جہدوجہد کسی سے کم نہیں بلکہ کہیں کہیں ممبران سے بڑھ کر بھی نظر آتی ہے،باڈی کی تشکیل کی صورت ان کو بھی ان کا جائز مقام دے کر ان کی سروسز سے بہتر استفادہ بھی ممکن ہے۔

تحریک کے پہلے فیز میں فیصلہ سازی میں حکمت ،بصیرت اور تحمل ایسے عناصر قابل داد تھے مگر دوسرے فیز میں ان کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔یاد رہے ایسی تحریکات کبھی کمزور نہیں پڑتیں سوائے اس کے کہ جب فیصلہ ساز لوگ غلط اور بے محل فیصلے کر کے عام آدمی کی نظر میں اس کی قدر کو مجروح نہ کریں۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب برائے راست ان تحریکوں سے مفاداتی زچ پہنچنے والی قوتیں آخری دھکا دینے کے لیے کود پڑتی ہیں۔جذباتی اور دلیر کارکن کسی بھی تحریک کا جزو لاینفک مگر فیصلہ سازی ہمیشہ صائب الرائے اور اہل حکمت و دانش ہی کا کام ہے اور انہی کو کرنا چاہیے(جس کے لئے کور کمیٹی ممبران کے علاؤہ مشاورتی کمیٹی کی تشکیل بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے).

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کشمیریوں کی(بالخصوص آزاد کشمیر) آخری امید ہے خدا نخواستہ اگر یہ کسی محاذ پر ناکام ہوئی یا اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی تو یاد رہے استحصالی قوتوں کے سامنے کھڑی یہ آخری دیوار میں دراڑ پڑتے ہی ریاست اور عوام کے بدترین استحصال کے برے دنوں کا آغاز ہو جائے گا۔۔لہذا ذمہ داران کو بروقت مناسب عملی اقدام میں دیر نہیں کرنی ہو گی۔۔ورنہ جہاں آپ کی یہ عظیم جہدوجہد تاریخ میں سنہری باب بن کر رہے گی وہیں آخری صفحات ہماری ناعاقبت اندیشی کے نوحے سے بھی رقم ہونگے۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی