یہ کیسے لوگ ہیں تحریر... آمنہ خورشید

 



یہ کیسے لوگ ہیں

تحریر... آمنہ خورشید 

 پانچ ہزار سے زائد مربع میل پہاڑی علاقہ جسکی آبادی ساڑھے چار ملین کے قریب ہے۔ جس کی تاریخ کچھ اقوام کی طرح الگ اور بڑی ہی درخشاں رہی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں یہ اپنا آپ بھولا ہی بیٹھی تھی مگر یکا یک ایسی ہوا چلی کے انکی کھوئی ہوئی توانائی پھر سے بحال ہوئی اور پوری دنیا اب انکی معترف نظر آ رہی ہے۔ سادہ سے حلیے میں نظر آنے والے ہشاش بشاش جوان اور بوڑھے جب بھی اپنا کوئی مشن لے کر اٹھتے ہیں تو مانو کشتیاں جلا کر نکلتے ہیں اور تب تک گھروں کو نہیں لوٹتے جب تک اس میں کامیابی یقینی نہیں ہو جاتی۔

یہ بات ہو رہی آزاد کشمیر اور اسکی آغوش میں پلنے والے ان بہادروں کی جنکے بارے تاریخ بتاتی ہے کے پانی پت میں احمد شاہ ابدالی کے ہم قدم رہے تھے۔ جہنوں نے سکھوں کے سب سے بڑے فاتح رنجیت سنگھ کو انہی پہاڑوں میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں سکھ اور ڈوگرہ نے مل کر ایسا قتل عام یہاں ان پہاڑوں میں کیا تھا تا کے اب یہ ساری زندگی دوبارہ سر نا اٹھا سکیں مگر انکی یہ سوچ ایک خام خیالی ثابت ہوئی اور پھر تاریخ نے اپنے اوراق میں یہ بھی لکھا کے یہی پہاڑ ڈوگرہ حکومت کی موت لے کر آۓ اور اس خطہ کو اپنے زور بازو سے آزاد کروایا۔ 

آزادی کے کچھ ہی سالوں بعد یہاں پھر سے جب حکومت میں ردوبدل کیا گیا تو اسکا فوری ری ایکشن آیا اور بغاوت پھوٹ پڑی۔ تب کچھ طاقتور اداروں نے پوری سختی سے انکو کچلنے کی جو کوشش کی وہ بھی ایک دردناک قصہ ہے۔ مگر اس سب کے بعد بھی اس قوم کے اندر کے باغی پن کو کوئی دنیاوی طاقت نہیں بدل سکی۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا اور کچھ اعلی ذہنوں نے اسکا حل یہ نکالا کے ان لوگوں کو کنٹرول کرنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کے ان کو آپس میں الجھا لیا جاۓ۔ اور اس کا طریقہ کار اس طرح بنایا گیا کے انکو سیاست کے پیچھے لگا دینا چاہیے۔ ستر, اسی سے لے کر یہ جو ایک خفیہ طریقہ کار اپنایا گیا یہ بے حد قائم رہا۔ لوگ جدو جہد کو بھول کر سیاست کے دلدادہ ہو گیے۔ ہر گھر میں ایک نا ایک لیڈر بننے لگا۔ ماضی بھول کر روشن مستقبل کی باتیں ہونے لگیں۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر بھائ بھائی سے لڑ بیٹھتا اور وقت کےحکمرانوں کو ہی اپنا مسیحا قرار دیتا۔ 

لیکن اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کے وہ خطہ جس کی باغی روش سے بڑی مشکل سے جان چھوٹی تھی اس کو سمجھنے میں نام نہاد دانشمند پھر غلطی کر بیٹھے اس علاقے کو ہر طرح کی سہولیات سے محروم رکھا جانے لگا۔ آٹے سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا تک جب عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگیں اور بجلی جو یہاں کے پانیوں سے ہی پیدا کی جاتی ہے اس کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا تو لوگ پریشان پریشنان سے سوچ و بچار میں مصروف نظر آتے۔ لیکن کوئی راہ کسی کو نا سوجھتی کے وہ ان حالات میں آخر کیا کرے۔ 

انسان کے اندر اگر حالات کو بدلنے کی خواہش ہو تو رب تعالی اس کا راستہ خود انسانوں کو دکھاتے ہیں۔ لہذا یہاں بھی اسی طرح ہوا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے مختلف شہروں سے تاجر برادری ایک لائحہ عمل لے کر میدان میں اتری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ساتھ جس طرح پوری ریاست کی عوام کھڑی ہونے لگی وہ ایک بہت ہی حیران کن چیز تھی۔ بجلی بل کے بائیکاٹ سے اس مہم کا آغاز کیا گیا اور پچھلے دو سالوں سے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے کشمیری عوام کی جدوجہد کی جو آۓ روز نئ نئ داستانیں قائم ہو رہیں ہیں۔ انکی مثال نہیں ملتی۔ اب حالات یہ ہیں کے آزاد حکومت کی حثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کی نظر نہیں آتی عملا اس وقت عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی کی ہی حکومت ہے کشمیر میں۔ 

کسی بھی طرح کے کالے قانون کی بات ہو یا ریاست کے نوجوانوں کو بلاجواز اسیری میں رکھنے کا ایکشن کمیٹی کے ایک اعلان کی دیر ہوتی ہے کے پوری ریاست کے لوگ اپنا کاروبار بند کر کے ان کے ساتھ سڑکوں پہ نکل پڑتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ ایک ایسی قوم بن چکے ہیں۔ جو مکمل نظم و ضبط سے ایسا پر امن احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں کے انٹرنیشنل میڈیا پر بھی انکی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ 

کشمیری نوجوانوں کا جوش و ولولہ اس لیے بھی جوبن پر ہے کیوں کے ایک تو قیادت عوام کے بیچ فرنٹ پر خود کھڑی ہوتی ہے اور دوسرا بزرگ لوگ اس تحریک کا اصل سرمایہ ہیں۔ ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھاۓ جب بوڑھے اس کا حصہ بن جاتے ہیں تو نوجوانوں کا جوش الگ ہی جوبن پر نظر آتا ہے۔ اب مائیں, بہنیں خود اپنے گھروں سے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو رخصت کرتی ہیں اس دعا کے ساتھ کے ان شاء اللہ اب کے بار بھی کامیاب لوٹو گے۔ دعا ہے یہ شعور یوں ہی برقرار رہے کیوں کے ابھی منزل بہت دور ہے۔

یہ تیری گلیوں میں پھر رھے ہیں جو چاک داماں سے لوگ ساقی

کریں گے تاریخ مہ مرتب یہی پریشاں سے لوگ ساقی

یہ جگنوں کی چمک پے بھی سنبھال لیتے ہیں اپنا خرمن

  شنید ھے انتقام لیں گے نشاط دوراں سے لوگ ساقی

آمنہ خورشید

جدید تر اس سے پرانی