ٹوٹے پل، ٹوٹے وعدے: گڑھا بنجاں سمرالہ کے معلق پل کی فریاد


ٹوٹے پل، ٹوٹے وعدے: گڑھا بنجاں سمرالہ کے معلق پل کی فریاد

گزشتہ دنوں وجاہت حنیف، چیف ایڈیٹر نے سمرالہ، گڑھا بنجاں کے معلق پل کا دورہ کیا، جس کی حالتِ زار برسوں سے علاقے کے باسیوں کی مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ پل، جو کئی دہائیوں سے گڑھا بنجاں اور اردگرد کے علاقوں کے لوگوں کے لیے آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ تھا، اب شکستہ اور خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ وجاہت حنیف نے عوام کی پریشانیوں کو سمجھتے ہوئے علی شان سونی اور چوہدری رزاق کے وعدوں کو یاد دلایا، جنہوں نے برسوں پہلے اس پل کی تعمیر نو کا عہد کیا تھا۔ تاہم، تاحال ان وعدوں پر کوئی عمل نہ ہونے پر انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

گڑھا بنجاں کا یہ پل علاقے کے لوگوں کے لیے محض ایک راستہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک اہم سہارا ہے۔ یہ پل طلبہ، ملازمین، مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سفری سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔ مقامی کسان اپنی فصلیں اور دیگر اشیاء اسی پل کے ذریعے مارکیٹ تک پہنچاتے تھے۔ یہ راستہ نہ صرف وقت کی بچت کرتا تھا بلکہ روزمرہ کے معاملات کو آسان بناتا تھا۔

اب اس پل کی شکستہ حالت نے لوگوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لوگ دور دراز کے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ طلبہ کے لیے اسکول جانا مشکل ہو گیا ہے، بیماروں کو اسپتال تک پہنچانے میں تاخیر ہو رہی ہے، اور علاقے کی مقامی معیشت بھی زوال پذیر ہو رہی ہے۔

علی شان سونی اور چوہدری رزاق نے اس پل کی تعمیر نو کا وعدہ کیا تھا، جو عوام کے لیے ایک امید کی کرن تھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا، اور لوگوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان وعدوں پر آج تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

یہ وعدے سیاست کے اس تلخ پہلو کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں عوامی مسائل کو محض سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انتخابات کے دوران کیے گئے یہ وعدے لوگوں کو متاثر کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیے گئے تھے، لیکن جیسے ہی اقتدار ملا، عوام کی مشکلات کو نظرانداز کر دیا گیا۔



چیف ایڈیٹر ڈیلی کشمیر آنلاٸن نے پل کا دورہ کرتے ہوئے عوام کی مشکلات کو اجاگر کیا اور اس مسئلے کو قومی سطح پر لانے کی کوشش کی۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی عکاس ہے کہ صحافت ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو عوامی مسائل کو حکام کے سامنے پیش کر کے ان کے حل کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔ وجاہت حنیف نے علی شان سونی اور چوہدری رزاق کو ان کے وعدے یاد دلائے اور انہیں عوام کے دکھوں کا احساس دلایا۔

انہوں نے پل کی شکستہ حالت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف عوامی مشکلات کا سبب ہے بلکہ حکومتی بےحسی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا، اور وہ سیاسی قیادت سے مزید بدظن ہو جائیں گے۔

1. فوری اقدامات: حکومت کو فوری طور پر اس پل کی تعمیر نو کے لیے فنڈز مختص کرنے چاہئیں۔


2. سیاسی قیادت کا کردار: علی شان سونی اور چوہدری رزاق کو اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا۔


3. عوام کی شمولیت: عوام کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے حکام پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔


4. شفافیت اور جوابدہی: اس منصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہاہے

گڑھا بنجاں کے معلق پل کی تعمیر نو نہ صرف عوامی مشکلات کو کم کرے گی بلکہ یہ سیاسی قیادت کے وعدوں کی تکمیل اور عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بھی بنے گی۔ ایسے منصوبے صرف عوام کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ ایک خطے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کے ضامن ہیں۔
چیف ایڈیٹر  کی یہ کاوش ایک یاد دہانی ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنا حکام کی اولین ذمہ داری ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاسی قیادت زبانی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرے اور عوام کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کرے۔ گڑھا بنجاں کا پل صرف ایک راستہ نہیں، بلکہ امیدوں، خوابوں اور ترقی کا ذریعہ ہے، جسے مزید نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہوگا۔




 

جدید تر اس سے پرانی