میرپور (پی آئی ڈی)03 اپریل 2025
آزاد جموں وکشمیر کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے بزرگ راہنما چوہدری عبد المجید نے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مسلط غیر قانونی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے سرینگر میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین برائے ہندوستان و پاکستان کے دفاتر کو بند کرکے فوجی مشن کو واپس بھیجنے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منوج سنہا شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں۔ سرینگر میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفاتر سلامتی کونسل کی تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت قائم ہوئے ہیں۔ ان قراردادوں کو بھارت نے تسلیم کیا ہوا ہے اور ان سے انحراف یا ان دفاتر کوبند کرنا گویا سلامتی کونسل کے فیصلوں سے انکار ہے۔ سابق وزیر اعظم چوہدری مجید نے کہا کہ سلامتی کونسل کی جموں و کشمیر کی قراردادیں پوری قوت کے ساتھ نافذ ہیں ان قراردادوں کی خلاف ورزی کا مطلب اپنے ہی خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کو لاگو کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کا بیان بے بنیاد جہالت اور فہم سے آراستہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اپنی عوام کی توجہ اندرونی مسائل اور شدید معاشی بحران سے ہٹانے اور بی جے پی کے لئے مصنوئی مقبولیت بنانے کے لئے دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ بھارتی انتہا پسند حکومت اپنی عوام کے معاشی اور داخلی چیلنجز حل کرنے اس کی بے ربط فوج ملک میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں سے نبٹنے اور سرحدوں کا دفاع کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اس لئے اب چانکیہ حکمت عملی کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی والوں نے علاقائی اور بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈالنا کی سازش رچاناشروع کردی ہے۔ چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام اس بیان کو مسترد کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے ان غیر قانونی اعلانات اور واقعات کا نوٹس لے اور اس پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر پابندیاں لگائے۔
