سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف گزشتہ 11دن میں جنگلات میں آگ لگنے کے 94سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ماحولیاتی تحفظ اورقدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔


سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف گزشتہ 11دن میں جنگلات میں آگ لگنے کے 94سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ماحولیاتی تحفظ اورقدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 24مارچ اور 3اپریل 2025کے دوران جموںوکشمیر کے کم از کم 15 اضلاع میںجنگلات میں آگ لگی۔ 2 اپریل کو ایک دن میں سب سے زیادہ آگ لگنے کے 35واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد 3اپریل کو 18واقعات رپورٹ ہوئے۔سب سے زیادہ متاثرہ ضلع اسلام آباد ہے جہاں لگ بھگ روزانہ آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے دیگر اضلاع پلوامہ، بڈگام، گاندربل اور بانڈی پورہ میں بھی اکثرآتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔جموں خطے کے راجوری، رام بن، ریاسی، ڈوڈہ اور پونچھ اضلاع میں خاص طور پر یکم اپریل کے بعد سے جنگلات میں آگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔جموں و کشمیر ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے جنگلات میں آگ لگنے کے دو انتباہ جاری کیے ہیں۔ ان میں سے ایک میں10اپریل تک پورمنڈل اور کٹھوعہ کے قریب شدید آگ لگنے کا انتباہ جاری کیاگیا ہے جبکہ دوسرے انتباہ میں راجولتا، کالاکوٹ، سانبہ، کٹھوعہ اور لکھن پور کے ارد گرد شدید آگ کے خطرے سے خبردارکیاگیاہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات میں بھارتی فوج ملوث ہوتی ہے۔

 

جدید تر اس سے پرانی