نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ میں متنازعہ وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سنگھ پریوار نے اپنی نظریں اب گرجاگھروں کی زمینوں پر گاڑھ دی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آر ایس ایس سے وابستہ ایک جریدے” آرگنائزر ” کے ویب پورٹل پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بالواسطہ طور پر نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں کیتھولک چرچ کے زیر قبضہ وسیع اراضی کی چھان بین کرے۔مضمون میںجس کا عنوان”بھارت میں کس کے پاس زیادہ زمین ہے؟کیتھولک چرچ یا وقف بورڈ کے پاس”دعویٰ کیاگیا ہے کہ کیتھولک اداروں کے پاس تقریبا 7 کروڑ ہیکٹر اراضی ہے ۔ مضمون میں گرجاگھروں کو بھارت میں سب سے بڑا غیر سرکاری زمیندارقرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں ان جائیدادوں کی شفافیت اور نگرانی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیاہے ۔ وقف قانون میں ترمیم کے لئے بھی اسی طرح کا پروپیگنڈا کیاگیا تھا۔اگرچہ مضمون میں واضح طور پر قانون سازی یا سرکاری انکوائری کا مطالبہ نہیں کیاگیا ہے، تاہم اشاعت کا وقت اور لہجہ سنگھ پریوار میں اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ وقف ترمیمی بل کی منظوری سے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے وقف املاک پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانا ہے، پہلے ہی مذہبی املاک کے حقوق اور کمیونٹی کی خودمختاری کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔یہ مضمون مسیحی اداروںخاص طور پر کیتھولک چرچ جوبھارت بھر میں ہزاروں اسکول، اسپتال اور خیراتی ادارے چلاتا ہے، کی زمینوں کی چھان بین کے لیے مستقبل کے مطالبات کاآغاز ہوسکتا ہے۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانیے بھارت کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آر ایس ایس سے وابستہ ایک جریدے” آرگنائزر ” کے ویب پورٹل پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں بالواسطہ طور پر نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں کیتھولک چرچ کے زیر قبضہ وسیع اراضی کی چھان بین کرے۔مضمون میںجس کا عنوان”بھارت میں کس کے پاس زیادہ زمین ہے؟کیتھولک چرچ یا وقف بورڈ کے پاس”دعویٰ کیاگیا ہے کہ کیتھولک اداروں کے پاس تقریبا 7 کروڑ ہیکٹر اراضی ہے ۔ مضمون میں گرجاگھروں کو بھارت میں سب سے بڑا غیر سرکاری زمیندارقرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں ان جائیدادوں کی شفافیت اور نگرانی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیاہے ۔ وقف قانون میں ترمیم کے لئے بھی اسی طرح کا پروپیگنڈا کیاگیا تھا۔اگرچہ مضمون میں واضح طور پر قانون سازی یا سرکاری انکوائری کا مطالبہ نہیں کیاگیا ہے، تاہم اشاعت کا وقت اور لہجہ سنگھ پریوار میں اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ وقف ترمیمی بل کی منظوری سے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے وقف املاک پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانا ہے، پہلے ہی مذہبی املاک کے حقوق اور کمیونٹی کی خودمختاری کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔یہ مضمون مسیحی اداروںخاص طور پر کیتھولک چرچ جوبھارت بھر میں ہزاروں اسکول، اسپتال اور خیراتی ادارے چلاتا ہے، کی زمینوں کی چھان بین کے لیے مستقبل کے مطالبات کاآغاز ہوسکتا ہے۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانیے بھارت کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
