(بریڈفورڈ/برطانیہ)06فروری 2026 جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین ستارہء پاکستان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم اس سال 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر ایک ایسے نازک اور کربناک مرحلے پر منا رہی ہے، جب حال ہی میں تحریکِ آزادی کشمیر کے عظیم رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔


(بریڈفورڈ/برطانیہ)06فروری 2026
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین راجہ نجابت حسین ستارہء پاکستان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم اس سال 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر ایک ایسے نازک اور کربناک مرحلے پر منا رہی ہے، جب حال ہی میں تحریکِ آزادی کشمیر کے عظیم رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پوری کشمیری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی قومی سانحہ ہے۔ وہ جمعرات 5 فروری کو پاکستانی قونصلیٹ بریڈفورڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ یومِ یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں کشمیری و پاکستانی کمیونٹی، سیاسی و سماجی شخصیات، انسانی حقوق کے کارکنان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی قونصل جنرل زاہد احمد جتوئی اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ راجہ نجابت حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بطور وزیر اعظم اور صدر آزاد جموں و کشمیر کشمیری عوام کے حقوق کے لیے تاریخی کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بے مثال سفارتی و سیاسی جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری حقِ خود ارادیت کے سچے سفیر تھے اور ان کی پوری زندگی اقوامِ متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور عالمی فورمز پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑتے ہوئے گزری۔ ان کی جدوجہد کشمیری تاریخ کا سنہرا باب ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور پاکستانی قونصلیٹ بریڈفورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریبات کا انعقاد اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان ہر دور میں کشمیری عوام کا وکیل بن کر ان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری کے سامنے کشمیر کا مقدمہ قانونی، اخلاقی اور سفارتی بنیادوں پر بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے اسیر حریت رہنما محمد یاسین ملک کے معاملے پر مزید مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ انہوں نے بھارتی عدالتی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کے خلاف سنایا گیا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت ایک منصوبہ بند عدالتی قتل کے ذریعے یاسین ملک کو پھانسی دینا چاہتی ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی منشور پر ایک سیاہ دھبہ ہو گا۔ بھارت پنے خطرناک ایجنٹ کل بھوشن یادیو کا کیس تو عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا ہوا ھے تو پاکستان کو بھی محمد یاسین ملک کا کیس پوری قوت کے ساتھ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جانا چائیے اور یاسین ملک کی رہائی کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی جلد از جلد اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے مطابق حل کروانے کے لئے جدو جہد تیز کرنی ھو گی اور عالمی برادری کے دروازوں کو کھٹکھٹانے کا سلسلہ مزید تیز کرنا پڑے گا اور عالمی حمایت میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ راجہ نجابت حسین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ محمد یاسین ملک کے کیس کو فوری طور پر عالمی عدالتِ انصاف اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز پر لے جایا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یاسین ملک ایک پُرامن سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ جمہوری اور عدم تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز بلند کی۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے بھارتی جبر، ریاستی دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور کالے قوانین کا سامنا کر رہے ہیں، مگر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اس ظلم کو مزید سنگین اور خطرناک بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جن میں کشمیری عوام کو بین الاقوامی نگرانی میں حقِ خود ارادیت دینے کی ضمانت دی گئی ہے مگر بدقسمتی سے ان قراردادوں پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ راجہ نجابت حسین نے پاکستان اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ہر دور میں پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے شکر گزار رھے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کا متفقہ مؤقف ہے کہ پاکستان ہی ان کی منزل ہے اور کشمیری عوام دل و جان سے خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے تحریکِ آزادی کشمیر کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت فوری طور پر تمام کشمیری سیاسی اسیران، بزرگ حریت رہنماؤں اور نوجوان قیدیوں کو رہا کرے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند کرئے۔


 

جدید تر اس سے پرانی