مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ مذہبی اداروں پر کنٹرول جمانے کی بھارتی کوشش ہے،الجزیرہ


سری نگر : ”الجزیرہ “ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں حکام نے مساجد، مذہبی رہنماو¿ں اور مدارس کی جبری پروفائلنگ شروع کر دی ہے جس سے متنازعہ علاقے میں نگرانی اور کنٹرول کی نئی شکلوں پر رہائشیوں اور علماءمیں تشویش کی ایک نئی لہر ڈوڈ گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے رواںماہ کے شروع میں سری نگر میں آئمہ کو چار صفحات پر مشتمل ”مساجد کی پروفائلنگ” فارم تقسیم کرنا شروع کیا۔ فارم میں مساجد کے بارے میں وسیع تفصیلات طلب کی گئی ہیں جس میں ان کی نظریاتی وابستگی، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ اخراجات، زمین کی ملکیت وغیرہ کے علاوہ ائمہ، مو¿ذن کے بارے میں ذاتی معلومات شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں موبائل نمبر، ای میل، بینک اکاو¿نٹس، پاسپورٹ، سوشل میڈیا اکاﺅنٹس، بیرون ملک رشتہ دار اور یہاں تک کہ ان کے فون کا ماڈل بھی پوچھا گیا ہے ۔
کشمیریوں نے اس مشق کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے مذہبی اداروں پر کنٹرول جمانے کی بھارتی کوشش قرار دیا ہے۔ سری نگر کے ایک رہائشی محمد نواز خان نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ فارم خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی معلومات کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔سینئر علماءاور مذہبی اداروں نے بھی پروفائلنگ کے عمل کی مذمت کی ہے۔ مختلف دینی جماعتوںکے اتحاد متحدہ مجلس علماء(ایم ایم یو) نے اسے مساجد کو کنٹرول کرنے اور مسلم کمیونٹی کو کمزور کرنے کی براہ راست کوشش قرار دیا۔ سرینگر لال بازار کے ایک امام میر حافظ ناصر نے کہا کہ حساس معلومات کے لیے بار بار کی جانے والی درخواستیں، بشمول کشمیر سے باہر رہنے والے خاندان کے افراد کی تفصیلات انتہائی تشویشناک اور حق رازداری کی خلاف ورزی ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے پروفائلنگ کو "امتیازی” قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہندو مندروں، سکھ گوردواروں یا گرجا گھروں کے حوالے سے بھی اس طرح کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی نئی دہلی کی مسلط کر دہ نتظامیہ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی ایک منتخب کردہ کی رضامندی کے بغیر کی جانے والی مشق کو روک دے۔الجزیرہ نے لکھا کہ یہ پروفائلنگ 2019 میں فعہ 370 کی منسوخی کے بعد کی جا رہی ہے۔ بھارت نے علاقے پر اپنا براہ راست کنٹرول بڑھایا ہے، مذہبی آزادیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں ، سرینگر کی مرکزی جامع مسجد سیل کرکے جمعہ اور عید کی نمازیں ادا نہیں کرنے دی جاتیں۔ایک سیاسی تجزیہ کار نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکام عبادت گاہوں کو نگرانی کے مقامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

جدید تر اس سے پرانی