مودی کی اے آئی سمٹ: عالمی نگرانی منصوبہ یا ہائی ٹیک پروپیگنڈا؟

 

نئی دہلی:نئی دہلی میںبھارت کی” اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 “ ایک بڑے عالمی اجلاس کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ عالمی نگرانی اور ڈیجیٹل کنٹرول کے منصوبے کا ایک شاندار مظاہرہ ہے ۔
یہ سمٹ عالمی اے آئی گورننس سمٹس کی چوتھی کڑی ہے جس کا آغاز 2023 میں برطانیہ کے اے آئی سیفٹی سمٹ سے ہوا، پھر سیول اور پیرس میں اجلاس ہوئے۔ اس سمٹ کو سنجیدہ پالیسی سازی کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کی حکومت کی تشہیری مہم والا تماشہ سمجھا جا رہا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر عوامی ایونٹس سے یہ ایک میلے/ایکسپو کی طرح لگتا ہے جو پچھلے عالمی سمٹس کے مقابلے میں اس سمٹ کو کمزور کرتا ہے۔ ایجنڈے پر حکومت کا40فیصداور بڑی ٹیکنالوجی کمپنوںکا 35فیصد غلبہ ہے جس سے آزادانہ بات چیت یا بحث محدود ہو جاتی ہے۔ سنسکرت سے نکلے الفاظ جیسے ”سوتر“ اور”چکر“ کے استعمال پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ یہ ہندو قوم پرستی کے نظریات کو ٹیک پالیسی پر مسلط کرنے کی کوشش ہے ۔ مودی حکومت کے دور میں یہ سمٹثقافتی اکثریت پسندی اور ڈیجیٹل آمریت کو فروغ دینے کی طرف اشارہ ہے۔ بھارت میں دستاویزی طور پر اے آئی کو خواتین اور مظلوم طبقے کی نگرانی، سنسرشپ، نفرت انگیز تقاریر کے فروغ خاص طور پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہاہے۔اس صورتحال میں بھارت کیسے ڈیجیٹل ڈیموکریسی کی بات کر سکتا ہے؟ مودی حکومت نے سمٹ سے پہلے اس کے راستوں پر موجود جھوپڑیوں کو ہٹاکر لوگوں کو جبری طورپر بے دخل کردیااورانہیں بے گھر کردیا۔ ملٹی نیشنل ٹیک کمپنیوں کو سیشنز میں حکومت کے قریب برابر کا درجہ دینا نجی شعبے کی اے آئی پالیسی پر غلبے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ یہ جس سے اے آئی کے غلط استعمال، تعصب، بچوں کی حفاظت یا روزگار کے لئے حفاظتی اقدامات کمزور ہو سکتے ہیں۔ یہ کارکردگی دکھانے والے سمٹ کی بجائے تبدیلی لانے والی پالیسی سازی کے تاثر کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یہ سمٹ معاشرتی یا ٹیکنالوجیکل اثرات پیدا کرنے کے بجائے اعلیٰ سطحی تماشے کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے ۔بغیر ٹھوس کارروائی کے مودی کا اے آئی سمٹ حقیقی عالمی قیادت کے بجائے ہائی ٹیک سیاسی تھیٹر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی