مودی حکومت نے عوامی اتحاد پارٹی کو نئی دلی میں احتجاج کی اجازت نہیں دی

 

نئی دلی:مودی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر سے منتخب لوک سبھا کے غیر قانونی طورپر نظربند رکن انجینئر رشید کی سربراہی میں قائم عوامی اتحاد پارٹی کو جنتر منتر نئی دلی میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عوامی اتحاد پارٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور سیاسی حقوق کی بحالی کیلئے نئی دلی میں احتجاج کی اجازت مانگی تھی ۔عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے مودی حکومت کی طرف سے پر امن احتجاج کی اجازت نہ دینے کو "انتہائی بدقسمتی” قرار دیا اور کہا کہ اس سے بھارت میں پرامن اختلاف رائے کے لیے سکڑتی ہوئی گنجائش کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی ایک جائز سیاسی اور جمہوری مطالبہ ہے۔مودی حکومت کے اس اقدام کوبھارت اور مقبوضہ کشمیر میں اختلافی آوازوں پر مزید پابندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے بھارت میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے احترام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ عوامی اتحاد پارٹی نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔



جدید تر اس سے پرانی