کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی جے پی کی رکن نے کہاتھا کہ مدارس کے لیے ریاستی فنڈنگ اقلیتی نوجوانوں میں جرائم کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے ریاستی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاتھا کہ مدارس کے لیے مختص فنڈز اقلیتی برادریوں کی بہتری میں ناکام ہو رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے ادارے ڈاکٹروں، انجینئروں یا اساتذہ کو پیدا کرنے کے بجائے ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو بالآخر مجرم بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)ووٹ بینک کے طورپر اقلیتوں کا استحصال کر رہی ہے اور ان کی حقیقی ترقی کو نظر انداز کررہی ہے جبکہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ٹی ایم سی ارکان نے متراپال کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسپیکر بیمن بنرجی کو احتجاجی مراسلہ پیش کیاجنہوں نے بعد میں مترا پال کے بیان کے متنازعہ حصوں کو اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر نے کا حکم دیا۔ کابینہ کے رکن فرہاد حکیم نے بی جے پی رکن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو جرائم پیشہ افراد سے نہیں جوڑنا چاہئے اور متراپال پر زور دیا کہ وہ بیان واپس لیں۔بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پال نے تمام حدیں پارکرلیں اور سوال کیا کہ وہ ایک پوری کمیونٹی کو مجرم کیسے قرار دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی جدوجہد آزادی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہت سے لوگ مسلمان تھے۔ مغربی بنگال کے ایک اور وزیر صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ مدرسے میں پڑھنا کسی کو مجرم نہیں بناتا ، انہوں نے متنازعہ بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے پر مغربی بنگال میں حکمراں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
