بھارت :امپھال کی پہاڑیوں میں تازہ فائرنگ کے بعد منی پور میں کشیدگی


امپھال :بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور کے ضلع مشرقی امپھال میں سینم کوم پہاڑیوں پر تازہ فائرنگ کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلح افراد نے گولیوں کے کئی راو¿نڈ فائر کیے جس کے بعد بھارتی فورسز نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔نئی ریاستی حکومت کے قیام کے بعد سے اس پہاڑی سلسلے میں یہ اس طرح کاتیسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 4 فروری کی رات اور پھر 5 فروری کی صبح فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جس سے بار بار اشتعال انگیزی کی نشاندہی ہوتی ہے۔تازہ فائرنگ مارک ہل رینج سے ہوئی ہے جس سے کھنڈرکپم علاقے کے قریبی دیہاتوں کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔آرگنائزیشن یوتھ ناگا ان پل (INYO) نے اندھا دھند فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پوست کی کاشت کے آس پاس کے علاقوں سے کاروائیاںکر رہے ہیں۔
دریں اثناء Khundrakpam Kendra Youth’ Organization (KHUKYO) نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت صورت حال کو مو¿ثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔KHUKYO نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اشنگ گتھیمبی گاو¿ں میں واقع وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند کے فارم ہاو¿س کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اوربھارتی فورسز نے خطے میں ہائی الرٹ جاری کررکھا ہے۔

 

جدید تر اس سے پرانی