کالم ۔ حرف روشن
✍️ قاری محمد عثمان صدیقی؛
یومِ یکجہتیٔ کشمیر — رسمی نعروں سے عملی ذمہ داری تک:
یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض ایک تاریخ یا رسمی تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں ہماری اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان تنہا نہیں، ان کی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے، ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے، اور ان کی آزادی ہماری مشترکہ آرزو ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ برسوں سے یہ دن تقریروں، بینرز اور وقتی نعروں تک محدود ہوتا جا رہا ہے، جبکہ حالات کا تقاضا اس سے کہیں بڑھ کر عملی مدد، مسلسل آواز اور مؤثر حکمتِ عملی کا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں رہی۔ ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنز کے ذریعے معصوم آنکھوں کو نشانہ بنانا، نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں، خواتین کی بے حرمتی، اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منظم کوششیں—یہ سب اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ بھارت وہاں ایک فاشسٹ ریاست کے طور پر برتاؤ کر رہا ہے۔ کشمیری قوم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنی جائز اور قانونی جدوجہدِ آزادی جاری رکھے ہوئے ہے، مگر عالمی ضمیر کی خاموشی اس ظلم میں برابر کی شریک نظر آتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی انتہا کر رہا ہے بلکہ وطنِ عزیز پاکستان کو بھی دہشت گردی، پراکسی وار اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ناکام کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ بلوچستان سے خیبر پختونخوا تک، سازشوں کے جال بچھائے گئے، مگر الحمدللہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہا ہے اور ان شاء اللہ ناکام ہی رہے گا۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج کی وہ ہمہ وقت چوکسی اور قربانیاں ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیریوں کی مدد صرف بیانات سے نہیں ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ پوری قوت سے لڑا جائے،
عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو مسلسل شواہد فراہم کیے جائیں،
کشمیری مہاجرین اور متاثرین کے لیے عملی امداد کے منصوبے شروع کیے جائیں،
اور سب سے بڑھ کر اپنی صفوں میں اتحاد، شعور اور استقامت پیدا کی جائے۔
آج کا دن ہم سے سوال کرتا ہے: کیا ہم نے کشمیریوں کے لیے وہ کیا جو ہم کر سکتے تھے؟ اگر نہیں، تو اب وقت ہے کہ رسمی تقاریب سے آگے بڑھ کر عملی کردار ادا کیا جائے۔ یہی حرفِ روشن ہے، یہی وقت کی پکار، اور یہی ہماری قومی و دینی ذمہ داری ہے۔
اللہ تعالیٰ مظلوم کشمیری عوام کی نصرت فرمائے، انہیں آزادی کی نعمت عطا کرے، اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور وقار کی دولت سے نوازے۔ آمین۔
