اسلام آباد: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میںبھارتی فوجیوںنے آج جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میں تین نوجوانوںکو ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا اور انکی لاشوں کو مسخ کر کے اپنی درندگی اور وحشیانہ پن کا ایک اور باب رقم کیا۔ فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے چھترومیں گزشتہ کئی روز سے جاری تلاشی آپریشن کے دوران حراست میں لینے کے بعد فرضی جھڑپ میں شہید کیا اور بعد ازاں لاشوں کو کیمیانی مادے کے ذریعے جلا دیا جسکے نتیجے میں وہ ناقابل شناخت ہوگئیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہیداورانکی لاشوں کو کیمیائی مود کے ذریعے مسخ کرنے کایہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے سب سے بڑے نام نہادجمہوری ملک کی نام نہاد پیشہ وارانہ فوج اب تک مقبوضہ علاقے میں اس طرح کی سینکڑوں کارروائیاں کر چکی ہے۔ بے لگام بھارتی فوجیوں کیطرف سے مقبوضہ علاقے میں جنگی جرائم کا ارتکاب روز کامعمول ہے ۔ آزادی کی منصفانہ جدوجہدمیں مصروف کشمیریوں کے گھروں کو بارودی مواد کے ذریعے اڑانا، نوجوانوں کی لاشوںکو مسخ کرنا بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر ایک بدنما دھبہ ہے۔
بھارت نے گزشتہ 78برس سے کشمیریوں کی خواہشات کے منافی جموں وکشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ دنیا کا یہ نام نہاد جمہوری ملک علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ بھارتی فوج بدترین مظالم کے باوجود کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام رہی ہے ، وہ کشمیری نوجوانوں سے لڑنے سے قاصر ہے اورانہیں اغوا کرنے اور حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلوں میں شہید کر دیتی ہے ۔
بھارت دراصل مقبوضہ علاقے میں ایک ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہا ہے ۔ وہ اپنی بدترین ریاستی دہشت گردی اور وحشیانہ مظالم کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے ۔ شکست خودہ بھارتی فوج اب کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کو جلا کر مسخ کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھانے میں مصروف ہے ۔
