افضل گورو شہید — عدالتی قتل سے آزادی کی صدا تک!

 


کالم حرف روشن:
✍🏻 قاری محمد عثمان صدیقی ۔
افضل گورو شہید — عدالتی قتل سے آزادی کی صدا تک!
9 فروری 2013 کا دن محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ انصاف کے قتل اور ظلم کے عروج کی علامت ہے۔ اسی دن افضل گورو شہید کو ایک ایسے مقدمے کے بعد تختۂ دار پر لٹکایا گیا جسے خود انصاف کے پیمانوں پر پرکھا جائے تو وہ فیصلہ کم اور سیاسی انتقام زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ پھانسی ایک فرد کی نہیں تھی، یہ دراصل کشمیری عوام کی اجتماعی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش تھی۔
افضل گورو شہید کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ کشمیری تھے، مسلمان تھے، اور ظلم کے سامنے سر جھکانے پر تیار نہ تھے۔ انہیں بھارتی پارلیمنٹ حملے کے ایک متنازع مقدمے میں ملوث کیا گیا، شواہد کمزور، گواہ مشکوک اور طریقۂ انصاف سوالیہ نشان بنا رہا۔ یہاں تک کہ فیصلہ سناتے وقت بھی یہ کہا گیا کہ قوم کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنا مقصود ہے۔ یوں قانون کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیاسی خواہشات کو انصاف کا نام دے دیا گیا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں عدالت انصاف کی کرسی چھوڑ کر طاقت کے ایوانوں کی آواز بن گئی۔ افضل گورو کو اپیل کا پورا حق نہ دیا گیا، اہلِ خانہ کو بروقت اطلاع نہ ملی، آخری ملاقات تک نصیب نہ ہوئی، اور پھر میت بھی ورثاء کے حوالے نہ کی گئی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی ریاست کو سچ سے خوف تھا—اتنا خوف کہ لاش بھی واپس کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
ہندوتوا کی سوچ دراصل اسی خوف کی پیداوار ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو اختلاف کو جرم، سوال کو بغاوت اور حق کی بات کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔ گجرات کے فسادات ہوں، بابری مسجد کی شہادت ہو یا مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز اور کرفیو—ہر جگہ ایک ہی سوچ کارفرما ہے: طاقت کے بل پر خاموشی۔
مگر تاریخ کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پھانسیاں تحریکوں کو ختم نہیں کرتیں، زندہ رکھتی ہیں۔ افضل گورو شہید آج بھی زندہ ہیں—کشمیریوں کے حوصلوں میں، ماں کی دعا میں، نوجوان کی آنکھ میں اور ہر اُس ضمیر میں جو ظلم اور انصاف کے فرق کو جانتا ہے۔
قرآنِ کریم کا اعلان ہے: “وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا”
وہ مردہ نہیں، زندہ ہیں۔
افضل گورو شہید کی شہادت بھی اسی زندگی کی دلیل ہے۔ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ یہ خون سوال بن کر ابھرا، صدا بن کر پھیلا اور یقین میں ڈھل گیا۔ آج مقبوضہ کشمیر میں جو اندھیرے مسلط ہیں، وہ دائمی نہیں۔ ظلم کی رات جتنی گہری ہوتی ہے، سحر اتنی ہی قریب ہوتی ہے۔
وہ دن دور نہیں جب ہندوتوا کے ایوان لرزیں گے، جب عدالتی قتل تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، اور جب دنیا مانے گی کہ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا نہیں، انسانی وقار اور آزادی کا مسئلہ ہے۔
افضل گورو شہید کی پھانسی ایک انجام نہیں تھی، یہ ایک آغاز تھا—
عدالتی قتل سے جنم لینے والی وہ صدا جو آج بھی گونج رہی ہے:
شہداء کا خون رنگ لائے گا،
اور آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔
اللہ تعالیٰ افضل گورو شہید سمیت تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے،
مظلوموں کی نصرت فرمائے اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائے۔ آمین۔


جدید تر اس سے پرانی