بھارت، امریکا تجارتی معاہدے کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج کا اعلان

 

نئی دلی:
بھارت میں کسان تنظیموں نے مجوزہ بھارت-امریکا غیر منصفانہ اور یک طرفہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
کسان برادری نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اس معاہدے سے ملکی زراعت اور ڈیری سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔بھارتی جریدے دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدہ یک طرفہ ہے اور اس سے امریکی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی میں زیادہ رسائی مل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کسانوں کو شدید مسابقت اور مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔کسان تنظیموں نے خبردار کیاہے کہ اگر موجودہ شرائط پر اس تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ بعض کسان تنظیموں نے بھارتی وزیرِ تجارت سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کو اعتماد میں نہیں لیا۔عالمی ماہرین کے مطابق مجوزہ تجارتی ڈیل کی موجودہ شرائط بھارتی زرعی شعبے، خصوصا ڈیری انڈسٹری، کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی زرعی خود کفالت اور چھوٹے کسانوں کی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کسان تنظیموں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کی شقوں پر نظر ثانی کی جائے اور کسی بھی فیصلے سے قبل کسان نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

جدید تر اس سے پرانی