’گوبھی کے کھیت‘ کی وہ تصویر جس نے ہولناک ہندو مسلم فسادات کی یاد تازہ کر دی
- امیتابھ بھاٹیا
- بی بی سی نیوز بنگلہ
انتباہ: (اس رپورٹ میں شامل کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں)
انڈیا کے صوبہ بہار کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے مکمل نتائج کا ابھی اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ لیکن اس بات کے واضح اشارے مل رہے تھے کہ بی جے پی کی قیادت میں بننے والا این ڈی اے اتحاد الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہا ہے۔
اسی روز دوپہر میں ریاست آسام میں بی جے پی کے ایک وزیر اشوک سنگھل نے اپنے ایکس کے اکاؤنٹ پر گوبھی کے کھیت کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ ’بہار نے گوبی فارمنگ منظور کر لی۔‘
سبزی کی اس کاشت اور بہار کے انتخابی نتائج کے درمیان جو تعلق بنایا گیا کہ اس نے کئی افراد کے لیے 35 سال قبل ہونے والے بھاگلپور کے پرتشدد فسادات کی یاد تازہ کر دی۔
اشوک سنگھل کی پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے آسام پردیش کانگریس پارٹی کے صدر گورو گوگوئی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’بہار کے انتخابی نتائج کے بعد آسام میں ایک موجودہ وزیر کی طرف سے ’گوبھی فارمنگ‘ کی تصویر کا بطورِ سیاسی اشارے کے استعمال چونکا دینے کی حد تک کمتر بات ہے اور یہ ’فحش اور شرمناک ہے
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’کسی سانحے کو اس طرح سے پیش کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کچھ لوگ عوامی سطح پر کس حد تک گرنے کو تیار ہیں۔‘
اس سیاسی بحث کے دوران ’گوبھی کی کاشت‘ کے مسئلے نے ایک خوفناک فساد کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والے ان فسادات میں سب سے ہولناک واقعہ لوگان گاؤں میں ہونے والا قتل عام تھا۔
اس گاؤں کے مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور پھر لاشوں کو چھپانے کے لیے ان پر گوبھی اور بند گوبھی کاشت کی گئی۔ فسادات کے تقریباً ایک ماہ بعد وہاں سے 116 لاشیں ملیں۔
