بھارت میں مسلمانو ں کی نسل کشی کا عمل ساتویں مرحلے میں داخل ہو چکاہے، جینو سائیڈ واچ

 

اسلام آباد: نسل کشی کی روک تھام کیلئے سرگرم واشنگٹن میں قائم عالمی تنظیم ”جینوسائیڈ واچ“ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا مذموم عمل اپنے ساتویں مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
جینوسائیڈ واچ نے نسل کشی کے عمل کو دس مراحل میں ترتیب د ے رکھا ہے ۔ ان مراحل میں درجہ بندی، علامت سازی، امتیاز، غیر انسانی سلوک، تنظیم سازی دوریاں پیدا کرنا اور تیاری وغیرہ شامل ہیں۔رپوٹ میں بھارت میں”تیاری “ کو نسل کشی کا ساتواں مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔۔ تیاری وہ مرحلہ ہے جب گروہی قیادت قتل عام کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ رہنما وسائل منظم کرتے ہیں اور ارادوں کو چھپانے کے لیے مبہم زبان استعمال کرتے ہیں۔ مبہم زبان نسل کشی کی نوعیت کو چھپانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ منصوبوں کو “فائنل سلوشن”، نسلی صفایا یا انسداد دہشت گردی جیسے نام دیے جاتے ہیں۔ ملیشیاوں کی تیاری اور اسلحہ بندی انہیں نسل کشی کے قابل بناتی ہے۔رپورٹ میںاسلحہ فراہم کرنے اور ملیشیاوں کی تربیت کو اہم اشاریے قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پرتشدد بیانیے کو معمول بنانا ایک اہم علامت ہے۔ ہندو رہنماوں نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل کے عوامی مطالبات کیے۔ہندوتوا انتہاپسند تشدد کو دفاع کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں۔ہندوتوا رہنما ہندووں کو اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔بجرنگ دل ہندو مردوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ نوجوان ہندو مردوں کو کیمپوں میں مسلمانوں پر حملے کی تربیت دی جاتی ہے۔بھارت میں 2014 کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور مخالف مسلم ریلیوں میں اضافہ ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار سنبھالا تھا۔نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد مسلم مخالف یہ رجحان بڑھا۔ مہاراشٹر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مخالف مسلم ریلیوں میں اضافہ ہوا۔ ہند وتوا رہنما “لو جہاد” جیسے نظریات کو خطرے کے طور پر پیش کرتے رہے۔ لو جہاد کے مطابق مسلم مرد ہندو خواتین کو دانستہ طور پر ورغلاتے ہیں۔ مسلم مرد خواتین کو مذہب تبدیل کرنے اور بچے پیدا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ملک میں پرتشدد بیانیہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ مسلمانوں کے قتل پر اکسانے والی ویڈیوز نے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ 2025کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد نفرت انگیز بیانات ، تقاریر میں مزید اضافہ ہوا۔ ایسی ویڈیوزسامنے آئیں جن میں ہندو توا تنظیم بجرنگ دل کے رہنما نوجوانوں میں ترشول تقسیم کرتے دیکھے جاسکتے ہیں ہ۔ افراد ترشول اس عہد کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ وہ ہندو سماج کا تحفظ کریں گے۔ نفرت انگیز تقاریر کے بعد مساجد اور مسلم اجتماعات پر منظم حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کئی ریاستون میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ہندووں نے تلواروں اور اسلحے کے ساتھ ریلیاں نکالیں اور مسلم املاک جلائیں۔ پولیس نے ہندو غنڈو ں کے بجائے زیادہ تر مسلم متاثرین کو ہی گرفتار کیا۔ ہندو جلوسوں کو جان بوجھ کر مسلم علاقوں سے گزارا گیا اور ہندو توا رہنما رہنما جلوسوں میں مسلمانوں کے قتل کی کھلے عام اپیل کرتے ہیں۔
نسل کشی پر اکسانا رام نومی کا ایک بار بار آنے والا پہلو بن گیا ہے۔جینوسائیڈ واچ بھارت بھر میں جاری اس پورے عمل کو نسل کشی کے ساتویں مرحلے “تیاری” سے تعبیر کرتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی