سری نگر: بھارتی سپریم کورٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ایک جھوٹے مقدمے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی سماعت میں طویل تاخیر بلا جواز ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ کولن گونسالویس اور شبیر احمد شاہ کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا کے دلائل سننے کے بعد شبیر احمد شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
شبیر احمد شاہ کے وکیل نے استدلال کیا کہ این آئی اے کی طرف سے داخل کی گئی ضمنی فرد جرم میں شبیر احمد شاہ کا نام ظاہر نہیں ہوا ہے اور ان کے خلاف کافی مواد کے ثبوت کے بغیر انہیں طویل حراست میں رکھا گیا ہے۔ وکیل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مقدمے کے جلد ختم ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ استغاثہ نے 400 کے قریب گواہوں کو درج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ این آئی اے مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کی وضاحت نہیں کرسکی ہے ۔
قبل ازیں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے جولائی 2023 میں شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کے خلاف ان کی اپیل خارج کر دی تھی۔ شبیر احمد شاہ کو بھارتی حکام نے جولائی 2017 میں گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں اسی سال اکتوبر میں انہیں این آئی اے کی جانب سے دائر کی گئی دوسری ضمنی فرد جرم میں ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔