آسام کے وزیر اعلی کا مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیان

 

نئی دہلی: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بسوا سرما نے ایک انتخابی ریلی کے دوران مسلمانوںکے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیان دیا ہے جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے۔
ہمانتا بسوا سرما نے ضلع لکھیم پور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بنگالی مسلمانوں کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی اور کھلے عام دھمکی دی کہ اگر ان کی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات میں اقتدار میں واپس آتی ہے تو وہ ان کی کمر توڑ دیں گے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے بھارت میںمسلم مخالف بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔وزیر اعلیٰ بار بار اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز بیانات سے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اوروہ ان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیاہے کہ اس طرح کے بیانات سے نہ صرف فرقہ وارانہ تقسیم مزیدگہری ہوگی بلکہ اقلیتی برادریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا ہوگاجنہیں پہلے ہی ریاست میں بے دخلی اور سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔اس تقریر نے انتخابات سے قبل سیاسی تناو¿ کو مزید بڑھا دیا ہے، ناقدین نے اسے انتخابی فوائد کے لیے فرقہ وارانہ تقسیم کو بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔انہوں نے قانونی کارروائی اور جوابدہی کا مطالبہ کیاہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے تحفظ، وقار اور بنیادی حقوق پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی