کشمیریوں کو بدترین سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی جارحیت کا سامنا ہے: حریت کانفرنس

 

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پر بھارت کے مسلسل غیر قانونی قبضے کی وجہ سے کشمیریوں کو گزشتہ 78برس سے بدترین سیاسی ، ثقافتی اور معاشی جارحیت اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کاسامنا ہے ۔
 حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ اس عرصے کے دوران بھارتی فوج،پیراملٹری ، بارڈر سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے 1989 سے اب تک ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید، نوجوانوں اور خواتین کو اغوا کیا اور لاکھوں کو وحشیانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا۔تاہم بھارت تاحال اپنے مذموم عزائم میں مکمل طورپر ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کی بے مثال قربانیوں کی وجہ سے تنازعہ کشمیر عالمی سطح پر مرکز نگاہ بنا ہوا ہے اورخطے میں بھارت کی بالادستی اور جمہوریت کے نام نہاد دعوے بے نقاب ہوگئے ہیں ۔حریت ترجمان نے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کو عسکریت پسندی اور کالے قوانین کے استعمال کے ذریعے بدترین سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے اور بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں سرکاری تقریبات میں وندے ماترم گانا لازمی قراردینے سمیت ہندوتوا ایجنڈا مسلط کیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بی جے پی حکومت اور اس کی سیاسی کٹھ پتلیاں کشمیری مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کشمیریوں کے تشخص اور ثقافت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ حریت ترجمان نے کشمیریوں پر زوردیاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق کو مزید فروغ دیں اور دشمن کی سازشوں کا ناکام بنادیں ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق پر امن حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔K

جدید تر اس سے پرانی