حریت کانفرنس کی آسیہ اندرابی کو عمرقید کی سزا سنانے کی مذمت ، جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

 

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے دہلی کی ایک خصوصی عدالت کی جانب سے سینئر حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اورناہیدہ نسرین کو 30،30سال قید کی سزا سنائے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک اور آزادی پسند کشمیری رہنماوں کے خلاف مودی حکومت کی سیاسی انتقام کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ کشمیری آزادی پسند قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت کی طرف سے عدلیہ اور تحقیقاتی اداروں کے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) طویل عرصے سے آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے لیے جو دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے نظربند ہیں، عمر قید کی سزا کا مطالبہ کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی کے شوہر محمد قاسم فکتو کو بھی 2003 میں ایک من گھڑت مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ 25 سال سے زیادہ عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔انہوں نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی پھانسی اور محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور ڈاکٹر فکتو جیسے رہنماو¿ں کی عمر قید کو عدالتی تاریخ کا ایک سیاہ باب قراردیتے ہوئے کہاکہ کشمیری رہنماو¿ں سے متعلق مقدمات میں بھارتی عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افضل گورو کے کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے شواہد نہ ہونے کا اعتراف بھی کیا لیکن بھارتی معاشرے کے نام نہاداجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے موت کی سزا کو جائز قرار دیا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے عدالتی آزادی کے فقدان کو ظاہر کرتے ہیں جہاں عدالتیں ریاستی پالیسی کے مطابق کام کرتی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اورکشمیری اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایک جائز اور پرامن جدوجہد کررہے ہیں۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو پھانسیوں، عمر قید کی سزاو¿ں یا طویل نظر بندیوں کے ذریعے خاموش نہیں کر اسکتا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں اوروہ اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کے لئے پرعزم ہیں اور اس کے منطقی انجام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی